صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 521 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 521

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۲۱ ۸۴- كتاب كفارات الأيمان حق موروثیت بھی عطا کیا گیا تھا۔ یعنی اگر غلام بے وارث مرتا تھا تو اس کا ترکہ اس کے سابقہ آقا کو جاتا تھا اور اگر مالک بے وارث رہ جاتا تھا تو اس کا ورثہ اس کے آزاد کردہ غلام کو ملتا تھا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے : عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْوِلَاءَ لِمَنِ اعْتَقَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعَ وَارِنَّا إِلَّا عَبْدًا هُوَ اعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَانَہ کے یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی آزاد شدہ غلام لاوارث مر جاوے تو اس کا ترکہ اس کے سابق مالک کو ملے گا اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص ایسی حالت میں مر گیا کہ اس کا کوئی وارث نہیں تھا البتہ اس کا ایک آزاد شدہ غلام تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ترکہ اس کے آزاد شدہ غلام کو عطا فرما دیا۔ چونکہ اس حق موروثیت کی بنیاد مالی اور اقتصادی خیالات پر مبنی نہیں تھی بلکہ اصل منشا مالک اور آزاد شدہ غلام کے تعلق کو قائم رکھنا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم جاری فرمایا کہ یہ حق موروثیت کسی صورت میں بھی بیچ یا ہبہ وغیرہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ابن عمرؓ سے روایت آتی ہے کہ نہی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوِلَاءِ وَهِبَتِهِ " یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد شده غلام اور آقا کے حق موروث کی خرید و فروخت اور اس کے ہبہ وغیرہ صدا سے منع فرمایا ہے۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی اللام ، صفحہ ۴۴۸،۴۴۷) باب ۹ : الِاسْتِثْنَاءُ فِي الْأَيْمَانِ قسموں میں ( انشاء اللہ کہہ کر ) استثناء کرنا ٦٧١٨ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ۶۷۱۸ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ا (صحیح البخاری، کتاب الفرائض، باب الولاء لمن اعتق) (سنن الترمذی، ابواب الفرائض، باب في ميراث المولى الأسفل) (صحیح البخاری، کتاب العتق، باب بيع الولاء وهبته)