صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 506 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 506

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۰۶ ۸۴ كتاب كفارات الأيمان شکلوں میں جو جرمانہ رکھا گیا ہے اس کے دو ہی بنیادی مقاصد ہیں۔اول اصلاح نفس اور دوم معاشرہ کے غریب اور پیسے ہوئے طبقات کو مالی فائدہ پہنچانا۔معاشرہ انہی دو امور کی سر انجام دہی سے ترقی کرتا ہے۔نفوس کی اصلاح اور گرے ہوئے مفلوک الحال طبقہ کو اوپر اُٹھانا۔اسلامی تعلیم کا مقصد اعلیٰ بھی یہی ہے۔امت مسلمہ کو خیر امت اسی لئے کہا گیا ہے کہ اُخرجت للناس۔وہ لوگوں کی بھلائی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔فقہاء نے کفارہ میں کھانے کی مقدار اور کپڑوں کی تعداد و غیرہ کے متعلق بہت طویل بحثیں کی ہیں۔قرآن کریم نے اپنے انداز میں اس طرف لطیف اشارہ فرما دیا ہے۔فرمایا: مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ (المائدة: 90) یعنی جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔یہی اصول اور یہی معیار ہے۔ہر ایک اپنے گھر والوں کے لئے جس معیار کے کھانے اور لباس کا انتظام کرتا ہے وہی اُسے کفارہ میں مساکین کے لئے انتظام کرنا چاہیئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مِنْ اَوسَطِ مَا تُطْعِمُونَ - اکثر نے اس کے معنے میانہ درجہ کے کیے ہیں۔مگر بعض مفسرین نے اوسط کے معنی اعلیٰ درجہ کے کیے ہیں۔کسوتُهُمْ۔جس میں کم از کم دو چادریں ہوں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۱۲۳) ج بَاب ٢ : قَوْلُهُ تَعَالَى قَد فَرَضَ اللهُ لَكُم تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ، وَالله مَولَيكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (التحريم :٣) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ نے تمہارے لئے یہ مقرر کیا ہے کہ تم اپنی قسموں کا کفارہ دے کر ان سے آزاد ہو جایا کرو اور اللہ تمہارا نگران ہے اور وہ خوب جانتا ہے اور نکتہ رس ہے مَتَى تَجِبُ الْكَفَّارَةُ عَلَى الْغَنِيّ وَالْفَقِيرِ مالدار اور محتاج پر کفارہ کب واجب ہوتا ہے؟ ٦٧٠٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۷۰۹ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ سَمِعْتُهُ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری مِنْ فِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى زُہری کے منہ سے سنی۔وہ محمید بن عبد الرحمن سے ، النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُحمید حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے تھے۔هَلَكْتُ قَالَ مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ وَقَعْتُ حضرت ابوہریرہ نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ تَسْتَطِيعُ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا۔آپ