صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 507
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۰۷ ۸۴ كتاب كفارات الأيمان تُعْتِقُ رَقَبَةً؟ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں رمضان میں أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَنَا بِعَيْنِ؟ قَالَ لَا اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔آپ نے فرمایا: کیا تم قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ ایک گردن آزاد کر سکتے ہو ؟ اس نے کہا: نہیں۔مِسْكِينًا؟ قَالَ لَا قَالَ اجْلِسْ فَجَلَسَ آپ نے فرمایا: کیا تم دو مہینے لگا تار روزے رکھ سکتے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: تو کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ اُس نے کہا: نہیں۔فِيهِ تَمْرُ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الصَّحْمُ قَالَ آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور وہ بیٹھ گیا۔اتنے میں نبی خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑی زنبیل (ٹوکری) مِنَّا؟ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لائی گئی جس میں کھجور میں تھیں۔اور عرق ایک بڑی وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِدُهُ - قَالَ ماپنے کی زنبیل ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا: اسے لو اور اس کو صدقہ میں دے دو۔وہ کہنے لگا: کیا میں أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ۔اُس کو دوں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو ؟ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہے کہ آپ کے دانت دکھائی دیئے۔آپ نے فرمایا: اپنے بال بچوں کو یہ کھلاؤ۔أطرافه: ۱۹۳٦، ۱۹۳۷ ، ۲۶۰۰، ٥۳۶۸، ٦۰۸۷، ٦١٦٤ ، ٦٧١٠، ٦٧١١، ٦٨٢١- ريح : قد فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ : اللہ نے تمہارے لئے یہ مقرر کیا ہے کہ تم اپنی قسموں کا کفارہ دے کر ان سے آزاد ہو جایا کرو۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہاں قسموں کو توڑنے سے یہ مراد نہیں کہ جو سنجیدگی سے کسی سے وعدہ کی خاطر جائز قسم کھائی جائے اس کو بھی تم بے شک توڑ دیا کرو۔صرف یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ حلال و حرام میں سے اگر تم کسی کو تبدیل کرنے کی قسم کھا بیٹھو تو اسے توڑ دیا کرو مگر اس کا بھی فدیہ دینا ہو گا۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، سورۃ التحریم حاشیہ آیت ۳) ا حَتَّى بَدَتْ تَوَاجِذُهُ: آپ کے دانت دکھائی دیئے۔نواجذ آخری دانتوں (داڑھوں) کو کہتے ہیں۔سامنے والے دانتوں کو ثنایا، اس کے ساتھ والے رباعیات اور ان کے بعد الانیاب اور آخری نواجذ کہلاتے ہیں۔(عمدة القاری، جزء ۲۳ صفحه ۲۱۷)