صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 505
صحیح البخاری جلد ۱۵ وَسَلَّمَ كَعْبًا فِي الْفِدْيَةِ۔۵۰۵ - كتاب كفارات الأيمان ہے۔(چاہے یہ کرے یادہ کرے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت کعب بن عجرہ) کو فدیہ کے متعلق اختیار دیا تھا۔٦٧٠٨: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :٦٧٠٨ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ ابو شهاب (عبد ربہ بن نافع) نے ہمیں بتایا۔انہوں مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى نے (عبد اللہ ) ابن عون سے ، ابن عون نے مجاہد عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ أَتَيْتُهُ - يَعْنِي ہے، مجاہد نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے، عبد الرحمن النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ نے حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کی۔انہوں ادْنُ فَدَنَوْتُ فَقَالَ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُكَ؟ نے کہا: میں آپ کے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ پاس آیا۔آپ نے فرمایا: نزدیک آؤ تو میں نزدیک ہوا۔آپ نے پوچھا: کیا تمہیں تمہاری جو میں تکلیف صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكِ۔دیتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔آپؐ نے فرمایا: فدیہ دینا ہو گا روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے۔وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ اور ابن عون نے مجھے ایوب سے روایت کرتے الصِّيَامُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَالنُّسُكُ شَاةً ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا: روزے تین دن کے وَالْمَسَاكِينُ سِتَّةٌ۔ہیں اور قربانی ایک بکری کی اور جن مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے وہ چھ ہوں۔أطرافه: ۱۸١٤، ۱۸۱۵، ۱۸۱۶، ۱۸۱۷، ۱۸۱۸، ٤۱۰۹، 4190، 4191، 2017، -٥٦٦٥، ٥٧٠٣ ريح : فَكَفَّارَتْهُ إطْعَامُ عَشَرَةٍ مَسْكِيْن : قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھاناکھلایا جائے۔امام بخاری کفارات الایمان میں پہلا باب اور اس کے ذیل میں جو حدیث لائے ہیں اس میں قسم کا ذکر نہیں بلکہ احرام میں مجبوری یا بیماری کی صورت میں سر منڈوانے کا ذکر ہے۔شارحین اس کا جواب دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ قسم کے کفارہ کے متعلق امام بخاری کو اپنی شرائط کے مطابق حدیث نہ ملی تو انہوں نے کفارہ الاذی کو بیان کیا کیونکہ دونوں افعال کا کفارہ ایک ہی ہے اس لئے انہوں نے نتیجہ سے عمل کا استدلال کیا ہے۔مذکورہ روایت میں روزے رکھنے ، قربانی دینے اور صدقہ کا ذکر ہے۔اس میں غلاموں کی آزادی کا ذکر نہیں ہے۔کفارہ کی ان مختلف