صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 441 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 441

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۱ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ابوہریرہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ ثَلَاثَةٌ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: بنی اسرائیل فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُبْتَلِيَهُمْ میں تین شخص تھے کہ جن کو اللہ نے آزمانا چاہا تو فَبَعَثَ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ ایک فرشتے کو بھیجا اور وہ کوڑھی کے پاس آیا۔وہ تَقَطَّعَتْ بِيَ الْجِبَالُ فَلَا بَلَاغَ لِي إِلَّا کہنے لگا: میرے تو سارے وسیلے کٹ گئے ہیں، اب بِاللهِ ثُمَّ بِكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔صرف اللہ ہی کا آسرا ہے اور آپ کا۔پھر انہوں نے ساری حدیث بیان کی۔طرفه: ٣٤٦٤ - تشریح :لا۔لا يَقُولُ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ: یوں نہ کہے جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔علامہ کرمانی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ ان دونوں لفظوں کو اکٹھا نہ کرو، یعنی اللہ کا چاہنا اور تمہارا چاہنا مشترک ہے۔یہ ادب کے خلاف ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۱۸۰) مسند احمد بن حنبل کی حدیث اس بات کو مزید واضح کرتی ہے۔ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تم نے مجھ کو اور اللہ کو برابر کر دیا؟ نہیں! صرف یہ کہو: جو اللہ نے چاہا۔لے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جو لوگ حکام کی طرف جھکے ہوتے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں، اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے ، وہ اُن کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو توحید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اُس کے اصل مرکز سے ہٹا کر ڈور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء علیہم السّلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مال کار توحید پر جا ٹھہرے۔وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزتیں ، سارے آرام اور حاجات براری کا متکفل خدا ہی ہے۔پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دوضروں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے اس لیے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو، رعایت اسباب کی جاوے، اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالٰی سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے، محسن حقیقی وہی ہے ، ذرہ ذرہ اُسی سے ہے، کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔جب انسان اس ا (مسند احمد بن حنبل، مسند بنی هاشم مسند عبد الله بن العباس، جلد ا صفحہ ۲۱۴