صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 426
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۶ - كتاب الأيمان والنذور ٦٦٣٥ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۶۶۳۵: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے حَدَّثَنَا وَهَبْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُّحَمَّدِ بیان کیا کہ وہب (بن جریر ) نے ہمیں بتایا۔شعبہ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے محمد بن ابی یعقوب أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ، محمد نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے ، عبد الرحمن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: بھلا بتاؤ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةٌ وَجُهَيْنَةً خَيْرًا مِّنْ تَمِيمٍ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور جہینہ بہتر ہوں تمیم وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَغَطَفَانَ وَأَسَدٍ اور عامر بن صعصعہ اور غطفان اور اسد سے ، تو یہ خَابُوا وَخَسِرُوا؟ قَالُوا نَعَمْ فَقَالَ نامراد رہے اور گھاٹے میں پڑے؟ انہوں نے کہا: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ہاں۔آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ ان سے بہتر ہیں۔أطرافه: ٣٥١٥، ٣٥١٦۔٦٦٣٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۶۳۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِي أَنَّهُ أَخْبَرَهُ کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔عروہ نے حضرت ابوحمید أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ساعدی سے روایت کی۔انہوں نے ان کو بتایا کہ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک محصل مقرر کیا اور وہ محصل جب اپنے کام سے فارغ ہوا آپ کے فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ لَهُ پاس آیا۔وہ کہنے لگا: یارسول اللہ ! یہ آپ کے لئے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔آپ نے اسے فرمایا: أَفَلَا فَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِكَ تم پھر اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا؟ ثُمَّ قَامَ اور پھر دیکھ لیتے تمہیں تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔پھر رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو نماز کے بعد کھڑے بَعْدَ الصَّلَاةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ ہوئے اور تشہد پڑھا اور اللہ کی وہ کچھ تعریف کی بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ جس کا وہ اہل ہے۔پھر فرمایا: اما بعد ، محصل کی یہ کیا