صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 404
صحیح البخاری جلد ۱۵ له له ۸۲ - كتاب القدر أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللهُ عَلَيَّ ہمارے باپ ہونا کہ تم نے ہمیں بد نصیب بنادیا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَحَجَّ اور ہمیں جنت سے نکلوایا۔ آدم نے اُن سے کہا: آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ثَلَاثًا موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے کلام سے مخصوص کیا قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے احکام لکھے ۔ کیا تم الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جس کو اللہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔ مِثْلَهُ۔ میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مقدر کر دیا تھا؟ آدم نے موسیٰ کو تین بار لا جواب أطرافه : ٣٤٠٩، ٤٧٣٦، ٤٧٣٨، ٧٥١٥۔ کر دیا۔ سفیان نے کہا: ہم سے ابو زناد نے بھی اسی طرح بیان کیا۔ اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے ، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ تشریح : تَحَاج آدَمُ وَمُوسَى عِنْدَ اللهِ : آدم اور موسی دونوں اللہ کے پاس جھگڑے۔ یہ بات بطور قصہ بیان کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق جا بجا دکھائی دیتا ہے کہ آپ بسا اوقات ماضی کے قصوں سے بعض مضامین بیان فرماتے ہیں۔ اس قصہ سے ایک تو یہ بتایا کہ عقل کے پیمانوں سے تقدیر کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تو صحیح نتائج تک نہیں پہنچا جا سکے گا بلکہ الٹ نتائج نکلیں گے۔ اس لیے شریعت کے تابع اور قوانین قدرت کو سمجھ کر تقدیر کے مسئلہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ انبیاء کے لیے اللہ تعالیٰ بعض اوقات تقدیر خاص ظاہر کرتا ہے جیسے حضرت ابراہیم کے لیے آگ ٹھنڈی ہو گئی جو کہ تقدیر عام کے خلاف ہے۔ اس لیے انبیاء کے واقعات کو تقدیر عام سمجھا جائے تو مزید الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ باب ۱۲ : لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللَّهُ جو اللہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ٦٦١٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۲۶۱۵ : محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلح حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ نے ہمیں بتایا۔ عبدہ بن ابی لبابہ نے ہم سے ، بیان