صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 397
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۹۷ ۸۲- کتاب القدر الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي ابن آدم کے لئے زنا سے جو اُس کا حصہ ہے مقرر وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ۔کر دیا اسے ضرور ہی پالے گا۔آنکھ کا زنا نظر ہے وَقَالَ شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس آرزو کرتا ہے اور طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اِن سب کی تصدیق النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے۔اور شبابہ (بن سوار ) طرفه : -٦٢٤٣ : نے کہا: ہمیں ورقاء ( بن عمر ) نے ابن طاؤس سے، اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی م سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا۔تشريح۔وَحَرِّمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ : اور ہر ایک بستی جسے ہم نے ہلاک کیا ہے اس کے لیے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے بسنے والے لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آئیں گے۔قومیں اور افراد چھوٹے گناہوں سرکشیوں اور بے اعتدالیوں کی پرواہ نہیں کرتے اور یوں تنکا تنکا اکٹھے ہوتے ہوتے ان کے لیے آگ کا اتنا بڑا ایندھن تیار ہو جاتا ہے کہ بالآخر اس قوم کو بھسم کرنے کے لیے ایک تیلی کافی ہوتی ہے لوگ اسے تقدیر کا لکھا کہہ کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ یہ وہ تقدیر ہے جو خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے رقم کی ہوتی ہے فسق وفجور کی وجہ سے نظام اور تہذیبیں مٹ جاتی ہیں یہ حالت ان قوموں کی وہ تقدیر مبرم بن جاتی ہے جس کا ٹلنا ممکن نہیں ہوتا اور وہ نسلاً بعد نسل ایسی ذریت چھوڑتے جاتے ہیں جن کا انگ انگ گناہ کی آلودگی میں لتھڑا ہو ا ہوتا ہے وہ اپنی فطرتِ صحیحہ کو اس قدر مسخ کر چکے ہوتے ہیں کہ وقت کے نبی کی آواز کے سامنے وہ صم بکم عمی فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ) (البقرة: 19) کی عملی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں۔روایت زیر باب میں گناہ کے جن مقدمات کو بیان کیا گیا ہے اُن سے ہر انسان کا واسطہ پڑتا ہے مگر مطہر وجودوں کو ان مقدمات سے بھی اس قدر گھن آتی ہے کہ وہ اس سے کوسوں دور رہتے ہیں۔امام بخاری نے ترتیب ابواب میں اس سے پہلے باب نمبر ۸ میں الْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللہ سے اس برگزیدہ گروہ کا استثناء کر کے دکھایا ہے کہ وہ ان مقدمات گناہ سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ووو ل ترجمه حضرت خلیفة المسيح الرابع : وہ بہرے ہیں وہ گونگے ہیں وہ اندھے ہیں پس وہ ( ہدایت کی طرف) نہیں لوٹیں گے “