صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 387 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 387

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۷ ۸۲ - كتاب القدر إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ میں نہیں مرے گیا۔ جب وہ زخمی ہوا اس نے مرنے وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ کی جلدی کی اور اپنے تئیں مار ڈالا۔ اس پر نبی صلی أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الله علیہ وسلم نے فرمایا ایک بندہ دوزخیوں کے سے الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ۔ کام کرتا رہتا ہے اور درحقیقت وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے اور (ایک) جنتیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور در حقیقت وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور عملوں کا اعتبار تو انجام پر ہی ہے۔ أطرافه : ۲۸۹۸، ٤٢٠٢، ٤٢٠٧ ، ٦٤٩٣۔ ہی تشريح العمل بالخواتيم، عمل کا اعتبار انجام پری ہوتا ہے کسی کے اچھے یا برے عمل کو دیکھ کر اس کے انجام کا حتمی طور پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا تعلق غائب سے ہے اور کسی شخص کی نیت کے متعلق اور اس کے مخفی ارادوں یا پوشیدہ امور کے متعلق عالم الغیب والشہادہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ انسان اپنی سطحی نظر سے ایک رائے قائم کرتا ہے قائم کرتا ہے مگر حقیقت الامر اس پر وا اس پر واضح نہیں ہوتی۔ زیر باب احادیث سے ایمان کی اس کیفیت کو بیان کیا ہے جو بین الرجاء والخوف کی مصداق ہے۔ ایک طرف نیک کام کرنے والے کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم اپنے اعمال پر انحصار کر کے اپنے لیے نجات حقیقی نہ سمجھ بیٹھو کسی وقت بھی پاؤں پھیل سکتا ہے اور آخری سیڑھی سے بھی انسان نیچے گر سکتا ہے اور دوسری طرف برے اعمال کرنے والے کو اُمید کی کرن دکھائی گئی ہے اور یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ تم اپنی بداعمالیوں کی دلدل میں جس قدر بھی ڈوب چکے ہو تمہارے لیے تو بہ اور واپسی کا دروازہ کھلا ہے تمہیں مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ کلام الہی کے اس مژدہ جانفزا کو سنولا تا یعسُوا مِنْ رُوحِ الله (یوسف: ۸۸) اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ نبی عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الحجر: ۵۰) (اے پیغمبر) میرے بندوں کو آگاہ کر دے کہ میں بہت ہی بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہوں۔ اس لیے امید اور خوف کے ساتھ انسان کو مسلسل اپنے آپ کو بہتر بنا کر اپنے انجام بخیر کی کوشش اور دعا کرنی چاہیئے اور اس اصل کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے إِنَّ انا الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ (هود: ۵۰) (اچھا) انجام یقینا تقویٰ اختیار کرنے والوں کا ہی ہوتا ہے۔ انجام بخیر کا ایک تعلق تحمیل عمل سے بھی ہے اور ادھورے کام منزل کے پانے اور ہدف کے حصول کو نا ممکن بنا دیتے ہیں اور انجام کار انسان خالی ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں: عمل کا انحصار خاتمہ پر ہے۔ ایک کام شروع کر کے اس کو درمیان میں چھوڑ دینا