صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 374
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۴ ۸۲ - کتاب القدر ح اللهُ أَعْلَمُ مَا كَانُوا عاملین اللہ بہتر جانتاہے جو کچھ وہ کرنے والے تھے۔حضرت مصلح موعود د رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کفار و مشرکین کے بچے۔سو اُن کے متعلق تین مذاہب ہیں۔اکثر کہتے ہیں کہ وہ دوزخ میں جائیں گے اور اُن کا استدلال اسی حدیث سے ہے۔۔۔کہ اللهُ أَعْلَمُ يما كَانُوا عَامِلین۔دوسرا گروہ اس کی نسبت خاموش ہے وہ کہتا ہے ہمیں کیا پتہ کہ کیا ہو گا۔یہ قیامت سے تعلق رکھنے والی بات ہے اس لئے ہم اس میں دخل نہیں دے سکتے۔تیسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ جنتی ہیں اور وہ کئی دلیلوں سے استدلال کرتے ہیں۔اُن میں سے زیادہ تر انحصار اُن کا اس حدیث پر ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بچوں کو لے کر ایک بڑے درخت کے نیچے جنت میں بیٹھے ہیں اور ان بچوں کو کھلا رہے ہیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وَاوْلَادُ المُشرکین کہ کیا مشرکوں کی اولاد بھی اس میں شامل ہے ؟ قَالَ وَاوْلَادُ الْمُشْرِ کین آپ نے فرمایا ہاں مشرکین کی اولاد بھی اس میں شامل ہے۔' (بخاری بحوالہ روح المعانی) اسی طرح اس آیت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ وَمَا كُنا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل: ۲۶) یعنی جب تک بعثت رسول نہ ہو جائے عذاب نازل نہیں ہو سکتا اور چونکہ بچوں کی طرف رسول کی بعثت نہیں ہوتی کیونکہ وہ مکلف نہیں۔بعثت رسول اُسی کی طرف ہوتی ہے جو مکلف ہو اس لئے معلوم ہوا کہ اُن کو کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ان تین مذاہب کے علاوہ بعض اور مذاہب بھی ہیں۔چنانچہ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بچے جنت اور دوزخ کے درمیان عالم برزخ میں رہیں گے اور ایک یہ مذہب ہے کہ اُن کا دوبارہ امتحان ہوگا اور اس کے نتیجہ کے مطابق وہ جنت و دوزخ میں جائیں گے اور وہ امتحان اس طرح ہوگا کہ انہیں کہا جائے گا کہ جاؤ دوزخ میں چلے جاؤ۔جو دوزخ میں جانے پر راضی ہو جائیں گے وہ مطیع ہوں گے اور جنت میں بھیج دیئے جائیں گے اور جو دوزخ میں جانے سے انکار کریں گے وہ کافر قرار دیئے جا کر دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔چنانچہ وہ لوگ اس حدیث سے بھی جو او پر گزر ا (صحيح البخاری، کتاب التعبير، باب تغيير الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلاةِ الصُّبح، روایت نمبر ۷۰۴۷)