صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 372
صحیح البخاری جلد ۱۵ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۸۲ - كتاب القدر خدا تعالیٰ کسی کو بد اور کسی کو نیک نہیں قرار دیتا۔ بلکہ وہ اعمال کا زمانہ شروع ہونے سے پہلے ہدایت کرتا ہے۔ اور اعمال کے نتائج پیدا کرتا ہے۔ پس دنیا میں ہر واقعہ جو تقدیر کے ماتحت نظر آتا ہے در حقیقت کسی اختیاری فعل کے نتیجہ میں ہے اور ہر واقعہ جس میں انسان کلی طور پر مختار نظر آتا ہے وہ در حقیقت قانون قدرت، انسان کے پہلے اعمال اور اس کے گردو پیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ابتدائے دنیا سے مختلف مذاہب اور مختلف فلسفی اس امر پر بحث کرتے چلے آئے ہیں کہ آیا انسان مجبور ہے یا مختار اور تقدیر کے سوال نے انسان کو حیران کئے رکھا ہے۔ لیکن اگر لوگ اسلام کی تو اسلام کی تعلیم کو مد نظر رکھتے تو یہ جھگڑے : رے پیدا ہی نہ ہوتے۔ اور اگر ہوتے تو بہت جلد ختم ہو جاتے۔ اس میں کیا شک ہے کہ انسان اپنے اعمال پر ایک سرسری نگاہ بھی ڈالے تو اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے افعال میں تقدیر و اختیار کے قانون ایک ہی وقت میں جاری ہیں۔“ (تحفہ لارڈارون، انوار العلوم، جلد ۱۲ صفحه ۵۳ ) باب : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ وہ کرنے والے تھے ٦٥٩٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۶۵۹۷ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نے ابو بشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے ، ابو بشر نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ عَامِلِينَ۔ کرنے والے تھے۔ طرفه: ۱۳۸۳-