صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 369
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۶۹ ۸۲ - كتاب القدر الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ صرف ایک باغ یا کہا ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے تو أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ اس کا نوشتہ اس پر چل جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذِرَاعٍ أَوْ ذِرَاعَيْنِ فَيَسْبِقُ کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ کوئی آدمی جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک النَّارِ فَيَدْخُلُهَا۔ قَالَ آدَمُ إِلَّا ذِرَاعٌ۔ أطرافه : ۳۲۰۸، ٣٣٣٢، ٧٤٥٤۔ ہاتھ یا دو ہاتھ رہ جاتے ہیں کہ نوشتہ اس پر چل جاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔ آدم (راوی) نے بجائے (غَيْرُ ذِرَاعٍ) کے إِلَّا ذِرَاعٌ کہا۔ ٦٥٩٥: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۶۵۹۵: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حماد بن زید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ بن ابی بکر بن انس سے، عبید اللہ نے حضرت انس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انس نے نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَّلَ اللَّهُ بِالرَّحِمِ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مَلَكًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ اللہ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے اور وہ کہتا جاتا عَلَقَةٌ أَي رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ ہے۔ اے رب ! اب یہ نطفہ ہے۔ اے رب ! اب یہ علقہ ہے۔ اے رب ! اب یہ مضغہ ہے اور أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ أَيْ رَبِّ أَذَكَرْ اگر اللہ نے چاہا کہ اس کی پیدائش کو مکمل کرے تو أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ وہ فرشتہ پوچھتا ہے۔ اے میرے رب ! مرد : اہے۔ اے رب ! ہو یا فَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ عورت، آیا بد بخت ہو یا نیک بخت اور اس کا رزق أُمِّهِ۔ أطرافه : ۳۱۸، ۳۳۳۳- کیا ہو اور عمر کیا ہو تو اسی طرح اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔