صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 368 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 368

صحیح البخاری جلد ۱۵ ایک ٣٦٨ ۸۲- کتاب القدر ہی نکلے گی۔سیب یا زیتون نہیں نکلے گا۔پس اس کی تقدیر اجمالی ہے مگر وہ اجمال تفصیل کو اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے جب وہ اجمال کھلنا شروع ہو گا اس سے وہی تفصیل پیدا ہو گی جو اللہ تعالیٰ نے اس میں مخفی رکھی ہے اس کے خلاف اور کوئی تفصیل پیدا نہ ہو گی۔غرض تقدیر الہی دو طرح ظاہر ہوتی ہے یا تو حکم سے کہ وہ فرما دیتا ہے کہ ایسا ہو یا ایسا نہ ہو۔پس جسے کہتا ہے ہو جاوہ ضرور ہوتا ہے اور جس کی نسبت کہتا ہے ایسا نہ ہو اس کے لئے ہونا ممکن نہیں ہو تا۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة القدر، زير آيت إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ جلد و صفحه ۳۰۷) باب ۱ ٦٥٩٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ :۶۵۹۴ ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے ہم سے بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔سلیمان اعمش نے سُلَيْمَانُ الْأَعْمَسُ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: میں نے زید بن بْنَ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنَا وہب سے سنا۔زید نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓی) رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ إِنَّ عَلیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا اور آپ سچے تھے اور أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ ٤ ہی آپ سے کہا گیا۔آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک کے اجزاء کو ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک اکٹھا کیا جاتا ہے۔پھر اتنی ہی مدت میں علقہ بنتا ہے۔پھر اتنی ہی مدت میں مضغہ بنتا ہے۔پھر فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ بِرِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَشَقِيٌّ أَوْ اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيْهِ الرُّوْحَ فَوَاللَّهِ إِنَّ جاتا ہے۔اس کے رزق اور اس کی عمر کے متعلق أَحَدَكُمْ أَوِ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ اور آیا وہ بد بخت ہو گا یا نیک بخت۔پھر اُس میں النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا روح پھونکی جاتی ہے۔اللہ کی قسم تم میں سے کوئی غَيْرُ بَاعٍ أَوْ ذِرَاعٍ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ شخص یا کہا کوئی آدمی دوزخیوں کے کام کرتا رہتا يَوْمًا ثُمَّ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا