صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 671
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۷۱ ۷۹ - كتاب الاستئذان فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا نکاح کیا تو لوگ اندر آئے اور انہوں نے کھانا کھایا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ پھر باتیں کرنے بیٹھ گئے تو آپ نے یوں اظہار کیا قَامَ مِنَ الْقَوْمِ وَقَعَدَ بَقِيَّةُ الْقَوْمِ وَإِنَّ گویا آپ اُٹھنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں مگر وہ نہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ اُٹھے ۔ جب آپ نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہوئے لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ جب آپ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے وہ بھی قَامُوا فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى کھڑے ہوئے جو کھڑے ہوئے اور باقی بیٹھ رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لئے آئے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ تو کیا دیکھا کہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر اس کے فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِين بعد وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ آئے اور اندر چلے گئے اور میں امَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ (الاحزاب : ٥٤) بھی اندر جانے لگا مگر آپ نے میرے اور اپنے الْآيَةَ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِيهِ مِنَ الْفِقْهِ در میان پردہ ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اُتارا۔ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَأْذِنْهُمْ حِينَ قَامَ وَخَرَجَ یعنی اے مؤمنو انہی کے گھروں میں ہرگز داخل نہ وَفِيهِ أَنَّهُ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ ہوا کرو۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: یہ بات يَقُومُوا ۔ سمجھنے والی ہے کہ آپ نے ان سے اجازت نہیں لی۔ جب آپ کھڑے ہوئے اور باہر گئے۔ اور اس میں یہ ہے کہ آپ کھڑے ہونے کے لئے تیار ہوئے اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ وہ اُٹھ جائیں۔ أطرافه: ٤٧٩١، ٤٧٩٢ ، ٤٧٩٣، ٤٧٩٤، ٥١٥٤، ٥١٦، ٥١٦٦، ٥١٦٨، ٥١٧٠، ٥١۷۱، ٥٤٦٦، ٦٢٣٨، ٦٢٧١، ٧٤٢١۔ ٦٢٤٠ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۶۲۴۰: اسحاق بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ كه يعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ میرے صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح سے، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے :