صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 583
صحیح البخاری جلد ۱۴ رة ۵۸۳ ۷۸ - كتاب الأدب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اس زمانہ کے اشرار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف نہایت گندی نظمیں اور اشعار بنا بنا کر پڑھا کرتے تھے۔ ایک مدت تک تو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق صبر سے کام لیتے رہے مگر جب وہ اِس خباثت : رہے مگر جب وہ اس خباثت میں حد سے بڑھ گئے تو بعض صحابہ نے حضرت حسان سے خواہش کی کہ وہ ان کا جواب دیں۔ حضرت حسان نے اُن کے کہنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے متعلق عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! انہوں نے آپ پر بہت حملے کئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اُن کو جواب دوں اور اُن کے عیوب ظاہر کروں۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب دینا اچھی بات ہے مگر اس میں ایک وقت ہے اور وہ یہ کہ اُن کے اور ہمارے آباؤ اجداد ایک ہی ہیں۔ اگر تم اُن پر حملہ کرو گے تو وہ حملہ ہم پر بھی ہو گا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں آپ کو اور آپ کے خاندان کو اُن سے اس طرح الگ کرلوں گا جس طرح مکھن میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ یہ اُن کے قادر الکلام ہونے کی دلیل تھی۔ کیونکہ قادر الکلام شاعر ہی اس رنگ میں شعر کہہ سکتا ہے کہ دوسرے کو جواب بھی دیدے اور اپنے بزرگوں پر بھی حملہ نہ ہونے دے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَهْجُ قُرَيْشًا وَرُوحُ الْقُدُسُ مَعَكَ (البحر المحيط جلد اول صفحه ۲۹۹) یعنی اے حستان ! قریش کی ہجو کر ، روح القدس تیرے ساتھ ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة البقرة، زير آيت وَلَقَد أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتب، جلد ۲ صفحه (۲۲) بَاب ۹۲ : مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبَ عَلَى الْإِنْسَانِ الشَّعْرُ حَتَّى يَصُدَّهُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَالْعِلْمِ وَالْقُرْآنِ جو مکروہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان پر شاعری اس قدر غالب ہو جائے کہ اس کو اللہ کے ذکر اور علم کے حاصل کرنے اور قرآن کی تلاوت کرنے سے روک دے ٦١٥٤ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ۶۱۵۴: عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ