صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 582 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 582

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸۲ ۷۸ - كتاب الأدب أَبَا هُرَيْرَةَ فَيَقُولُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ نَشَدْتُكَ حضرت ابوہریرہ سے شہادت لے رہے تھے، کہتے بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تھے : ابوہریرہ ! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَيْدَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ کہ آپ فرماتے تھے: اے حسان ! رسول اللہ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ ! روح القدس سے قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ۔ اطرافه: ٤٥٣، ٣٢١٢۔ اس کی تائید فرما۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا: ہاں۔ ٦١٥٣: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۶۱۵۳: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله سے ، عدی نے حضرت براء بن عاز حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَّانَ اهْجُهُمْ أَوْ قَالَ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ۔ أطرافه: ۳۲۱۳، ٤١٢٣، ٤١٢٤۔ حضرت حسان سے فرمایا: ان کی ہجو کرو یا فرمایا: ان کی ہجو کا جواب دو اور جبریل تمہارے ساتھ ہوں گے۔ تشریح : حِجَاءُ الْمُشْرِ كين: ہجاء اور جو کے معنی ہیں شعر میں مذمت کرنا۔ اور جوہری نے کہا ہے کہ ہجو مدح کا متضاد ہے۔ اور امام بخاری نے یہ باب قائم کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ شعر کی اس قسم میں سے بھی بعض مستحب ہوتے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۸۶) قومی جنگوں میں جہاں سپاہیوں اور جرنیلوں کا کردار بہت مرکزی ہوتا ہے وہاں افراد جماعت اور عوام کی طاقت کی سپورٹ اور مدد بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر زمانے میں شعراء، ادیب اور معاشرے کے دیگر طبقات فوجوں کے حوصلے بڑھانے اور ان کا مورال بلند کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اُس دور میں بھی عرب شعراء، مرد، عورتیں یہ رول ادا کرتی تھیں۔ مسلمان شعراء نے بھی یہ فریضہ خوب ادا کیا۔ مسلمان شعراء میں سے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اس میں بہت بڑا حصہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں جو تمام جنگوں میں فتح کی ضامن تھیں ان کا فیض جنگ لڑنے والوں تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ کی دعاؤں کا فیض ان شعراء کے کلام میں قوت اور طاقت کا باعث تھا جو مشرکین کی ہجو میں شعر کہتے تھے۔ جیسا کہ زیر باب روایات میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے یہ الفاظ ہیں: اللهُمَّ أَيْدُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ یعنی اے اللہ ! روح القدس سے اس کی تائید فرما۔ یہ روح القدس کی تائید ہی تھی جس سے وہ جنگیں جیتی گئیں۔