صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 565 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 565

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۶۵ ۷۴ - كتاب الأشربة اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دو اس لیے کہ شیطان اس وقت چاروں طرف پھیل جاتے ہیں۔(احادیث کی رو سے شیطان ایک وسیع اصطلاح ہے جس کے دائرے میں چور، ڈاکو، کتے، دیگر موذی جانور سانپ، بچھو، کیڑے مکوڑے اور جراثیم وغیرہ شامل ہیں۔) جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو بسم اللہ کہہ کر گھر کے دروازوں کو بند کر دو اور بچوں کو گھر سے نہ نکلنے دو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا اور اپنے مشکیزوں کے دونوں دہانوں کو بسم اللہ کہہ کر باندھ دو بسم اللہ کہہ کر ہی اپنے برتنوں کو ڈھانک دو اور چراغ بجھا دو۔(بخاری ومسلم) لیکن آپ نے کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانکنے کی ہدایت صرف رات ہی کے لیے نہیں فرمائی بلکہ دن کے لیے بھی یہی ہدایت جاری فرمائی اور کیوں نہ ہو کہ جراثیم کی دن کو چلنے والی سواریوں کی روک تھام بھی ضروری تھی۔چنانچہ حضرت جابر روایت کرتے ہیں۔ایک انصاری شخص جس کا نام ابو حمید تھا۔مقام نقیع سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ایک برتن لایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ڈھانک کر کیوں نہ لائے اور نہیں تو اس پر ایک لکڑی ہی رکھ لی ہوتی۔(بخاری و مسلم) ( حفظانِ صحت کی دینی تعلیم از حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد ، روزنامه الفضل ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء، صفحه ۴) بَابِ ۲۳ : اِخْتِنَاتُ الْأَسْقِيَةِ منہ موڑ کر مشک سے پانی پینا ٥٦٢٥: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي :۵۷۲۵ آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدِ زہری سے ، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى اللهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى سے عبید اللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ اخْتِنَاتِ الْأَسْقِيَةِ يَعْنِي أَنْ تُكْسَرَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکلوں کے منہ موڑنے سے منع کیا یعنی یہ کہ اس کے منہ موڑ کر ان سے پانی پیا جائے۔أَفْوَاهُهَا فَيُشْرَبَ مِنْهَا۔طرفه ٥٦٢٦-