صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 564
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۶۴ ۷۴ - كتاب الأشربة الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَوْ چراغوں کو بجھا دو اور دروازوں کو بند کر دیا کرو اور بِعُوْدٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ۔مشکوں کے منہ باندھ لو اور کھانے اور پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دو اور میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: گو ایک لکڑی سے ہی جو تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو۔أطرافه: ۳۲۸۰، ٣٣٠٤، ٣٣١٦ ٥٦٢٣، ٦٢٩٥، ٦٢٩٦- تشریح: تَغطِيَةُ الْإِناء: برتوں کو ڈھانپنا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد (خلیفہ المسح الرابع) فرماتے ہیں: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم انسانی کے ذریعہ ہر قسم کی آلودگی کا غذا تک پہنچنے کے احتمال کا سختی کے ساتھ قلع قمع فرما دیا لیکن اسی پر بس نہیں فرمائی بلکہ دوسرے امکانی راستوں پر بھی صحت کے راہزنوں کی روک تھام کے لیے مضبوط پہرے بٹھائے۔آج کی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ بعض مہلک بیماریوں اور وباؤں کے پھیلنے کی مندرجہ ذیل دو بنیادی وجوہات ہیں: (1) ہم اپنے بلغم تھوک وغیرہ بے دھڑک گلی کوچوں اور کھلی جگہوں میں پھینکتے پھرتے ہیں۔چنانچہ تپ دق وغیرہ کے مریضوں کے تھو کے ہوئے جراثیم گردو غبار کے ساتھ اُڑ کر ناک اور منہ کے راستے دوسرے صحت مند جسموں کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔(ب) کئی قسم کے جانور اور کیڑے مکوڑے جب ان گندگیوں میں منہ مار کر بعد ازاں ہمارے کھانوں اور مشروبات سے شوق فرماتے ہیں تو ساتھ ہی گندے جراثیم بھی لے آتے ہیں گویا غلاظت اور اشیائے خوردونوش کے درمیان سواریوں کا کام دیتے ہیں اور بڑی بڑی وسیع اور مہلک وبائیں پھیلانے کا موجب بنتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں مذکورہ بالا خطرات کی روک تھام کا لحاظ بھی ملتا ہے۔چنانچہ آپ سے کثرت سے ایسی ہدایات مروی ہیں جن میں خصوصاً رات کے وقت برتنوں کو کھلا چھوڑنے کی مناہی فرمائی گئی ہے جبکہ کئی قسم کے کیڑوں مکوڑوں اور جانوروں کا کھانے پینے کے برتنوں میں منہ مارنے کا احتمال ہوتا ہے چنانچہ حضرت جابر کہتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔جب رات شروع ہو یا شام ہو جائے تو