صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 549 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 549

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۴۹ ۷۴ - كتاب الأشربة ٥٦٠٤: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ سَمِعَ :۵۲۰۴ حمیدی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ أَنَّهُ سفیان بن عیینہ) سے سنا کہ سالم ابو نضر نے سَمِعَ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عمیر سے جو ام الفضل عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ شَكٍّ النَّاسُ فِی کے غلام تھے ، سنا۔عمیر نے حضرت ام الفضل صِيَامٍ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔وہ کہتی تھیں : عرفہ کے دن لوگوں نے رسول اللہ صلی العلوم کے روزے کے متعلق شک کیا تو میں نے آپ کو ایک برتن يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيْهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ بھیجا جس میں کچھ دودھ تھا۔آپ نے پی لیا۔کبھی شَكٍّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُوْلِ اللَّهِ سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی ا نام کے فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ فَإِذَا وُقِفَ روزے کے متعلق شک کیا تو حضرت ام الفضل عَلَيْهِ قَالَ هُوَ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ۔نے آپ کو ایک پیالہ بھیجا۔جب سفیان سے پوچھا جاتا ( آیا یہ حدیث مرسل ہے یا مر فوع متصل؟) تو وہ کہتے کہ یہ حضرت ام الفضل سے مروی ہے۔أطرافه: ١٦٥٨، ۱٦٦١، ۱۹۸۸، ٥٦١٨، ٥٦٣٦۔٥٦٠٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۵۶۰۵ قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نے ابو صالح (ذکوان) اور ابوسفیان (طلحہ بن نافع جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحِ مِنْ لَبَنٍ مِنَ قریشی) سے، ان دونوں نے حضرت جابر بن النَّقِيْعِ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عبد اللہ سے روایت کی۔حضرت جابر نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا حَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ البوحميد (ساعدی) نقیع سے ایک پیالہ دودھ کا لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تم نے اس کو ڈھانپ کیوں نہ لیا گو کوئی لکڑی ہی اس پر آڑی رکھ دیتے۔تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُوْدًا۔طرفه: ٥٦٠٦ -