صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 546
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۴۶ ۷۴ - كتاب الأشربة وَشَرِبَ الْبَرَاءُ وَأَبُو جُحَيْفَةَ عَلَی اور حضرت براء بن عازب) اور حضرت ابو جحیفہ النِّصْفِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ اشْرَبِ نے (انگور کا شیرہ) جب وہ جل کر آدھا رہ گیا تھا الْعَصِيْرَ مَا دَامَ طَرِيًّا۔ وَقَالَ عُمَرُ پیا۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: انگور کا شیرہ پیو وَجَدْتُ مِنْ عُبَيْدِ اللهِ رِيحَ شَرَابٍ جب تک کہ وہ تازہ ہے۔ اور حضرت عمر نے کہا: وَأَنَا سَائِلٌ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ میں نے عبید اللہ سے شراب کی بو پائی ہے اور میں اس کے متعلق پوچھوں گا اگر تو وہ نشہ آور ہوا تو جَلَدْتُهُ۔ میں اس کو کوڑے لگاؤں گا۔ ٥٥٩٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۵۵۹۸: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالجویریہ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ فَقَالَ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس سے بازق کے متعلق پوچھا تو الْبَادَقَ فَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ قَالَ انہوں نے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ قَالَ لَيْسَ سے پہلے ہی یہ حکم کر چکے ہیں کہ جو ؟ کہ جو بھی نشہ آور بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ إِلَّا الْحَرَامُ ہو وہ حرام ہے۔ ابو الجویریہ نے کہا: (باذق) مشروب تو حلال و طیب ہے۔ انہوں نے کہا: الْخَبِيثُ۔ حلال طیب کے بعد حرام خبیث ہی رہ جاتا ہے۔ ٥٥٩٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ۵۵۹۹: عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ که ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میٹھا الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ۔ اور شہد پسند کرتے تھے۔ أطرافه: ٤٩١٢ ، ٥٢١٦ ، ٥٢٦٧، ٥٢٦٨ ، ٥٤٣١، ٥٦١٤ ، ٥٦٨٢ ، ٦٦٩١، ٦٩٧٢۔