صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 500 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 500

صحیح البخاری جلد ۱۳ 0** ۷۳ - كتاب الأضاحي نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِيْنَ۔صرف اپنے لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے پر عمل کیا۔أطرافه ٩٥٤ ، ٤٩٨٤ ٥٥٤٩ ٥٥٦١- تشريح: سُنَّةُ الأطيبية: قربانوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کا عمل تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں: ماہ ذی الحجہ میں دوسری اسلامی عید یعنی عید الاضحی مشروع ہوئی جو ماہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو تمام اسلامی دنیا میں منائی جاتی ہے۔اس عید میں علاوہ نماز کے جو ہر سچے مسلمان کی حقیقی عید ہے۔ہر ذی استطاعت مسلمان کے لئے واجب ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے کوئی چوپایہ جانور قربان کر کے اس کا گوشت اپنے عزیز واقارب اور دوستوں اور ہمسایوں اور دوسرے لوگوں میں تقسیم کرے اور خود بھی کھائے۔چنانچہ عید الاضحی کے دن اور اس کے بعد دو دن تک تمام اسلامی دنیا میں لاکھوں کروڑوں جانور فی سبیل اللہ قربان کئے جاتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے اندر عملی طور پر اس عظیم الشان قربانی کی یادزندہ رکھی جاتی ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ نے پیش کی اور جس کی بہترین مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تھی اور ہر ایک مسلمان کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے آقا و مالک کی راہ میں اپنی جان اور مال اور اپنی ہر ایک چیز قربان کر دینے کے واسطے تیار ہے۔یہ عید بھی عید الفطر کی طرح ایک عظیم الشان اسلامی عبادت کی تکمیل پر منائی جاتی ہے اور وہ عبادت حج ہے۔“ (سیرت خاتم النبیین علایم صفحه ۵۱۴،۵۱۳) بَاب ٢ : قِسْمَةُ الْإِمَامِ الْأَصَاحِيَّ بَيْنَ النَّاسِ امام کا لوگوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کرنا ٥٥٤٧: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۵۵۴۷: معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ بَعْجَةَ هشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے يحي الْجُهَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ بن ابي کثیر) سے ، یحی نے بعجہ ( بن عبد الله) (