صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 337
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳۷ ٧٠ - كتاب الأطعمة بَاب : لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَجٌ إِلَى قَوْلِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (النور: ۶۲) نہ اندھوں پر ، نہ لنگڑوں پر ، نہ مریض پر ، نہ تم پر اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں (یا نھیال) کے گھر سے یا اپنے بھائیوں کے گھر سے یا اپنی بہنوں کے گھر سے یا اپنے بچوں کے گھر سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھر سے یا اپنے ماموؤں کے گھر سے یا اپنی خالاؤں کے گھر سے یا جن کے سامان کے انتظام پر تم مقرر ہو ، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کوئی چیز لے کر کھا لینے میں کوئی حرج ہے (اسی طرح) تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ پس جب گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے عزیزوں یا دوستوں پر سلام کہہ لیا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑی برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام تمہیں کھول کر سناتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو وَالنِّهْدُ وَالاجْتِمَاعُ عَلَى الطَّعَامِ۔ نہد کے معنی ہیں کھانے پینے میں برابر کی شراکت۔ ٥٣٨٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۵۳۸۴ : علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ یحییٰ بن سعید سَمِعْتُ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ يَقُوْلُ حَدَّثَنَا (انصاری) نے کہا: میں نے بشیر بن بیمار سے سنا۔ وہ کہتے تھے: سوید بن نعمان نے ہم سے بیان کیا۔ سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ انہوں نے سانے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى کے ساتھ خیبر کی طرف کوچ کیا۔ جب ہم صہباء خَيْبَرَ فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ قَالَ يَحْيَی میں پہنچے، بچی کہتے تھے کہ وہ خیبر سے اتنی دور وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا ہے کہ شام تک انسان جا پہنچتا ہے۔ رسول اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا مگر آپ کے پاس بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيْقٍ فَلَكْنَاه ستو ہی لائے گئے اور ہم نے وہی منہ میں ادھر اُدھر پھیر کر کھائے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا اور کلی کی فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ اور ہم نے بھی کلی کی اور نہیں مغرب کی نماز پڑھائی وَمَضْمَضْنَا فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ اور وضو نہیں کیا۔ سفیان نے کہا: میں نے بچی سے يَتَوَضَّأْ۔ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ یوں سنا کہ آپ نے ستو کھانے کے بعد وضو کیا