صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 216
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۶ ۶۸ - کتاب الطلاق قَدْ زَنَى يَعْنِي نَفْسَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ مسجد میں تھے۔اُس نے پکار کر کہا: یارسول اللہ ! فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ اس کم بخت نے زنا کیا۔اس سے مراد اُس کی اپنی قِبَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ الْأَخِرَ ذات تھی۔آپ نے اس سے منہ پھیرا۔وہ اُدھر قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لِشِقِّ ہی گیا جدھر آپ نے منہ پھیرا تھا اور پھر کہنے لگا: وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ لَهُ يا رسول اللہ ! اس کم بخت نے زنا کر لیا ہے۔آپ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا؛ اور وہ اُدھر ہی گیا فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ جدھر آپ نے منہ پھیر ا تھا اور پھر اس نے وہی شَهَادَاتٍ دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ بِكَ جُنُونٌ کہا۔آپ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا؟ اور چوتھی فَقَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله دفعہ پھر اُدھر ہی گیا۔جب اس نے چار دفعہ اپنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوْا بِهِ فَارْجُمُوْهُ خلاف شہادت دی تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: کیا تمہیں جنون تو نہیں۔اس نے کہا: نہیں۔نبی وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ۔أطرافه ٦٨١٥ ، ٦٨٢٥، ٧١٦- صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کو سنگسار کرو۔اور وہ شادی شدہ تھا۔٥٢٧٢: وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ۵۲۷۲) اور (اسی سند سے) زہری سے مروی مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ہے۔انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے بتایا جس الْأَنْصَارِيَّ قَالَ كُنْتُ فِيْمَنْ رَجَمَهُ نے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے سنا۔وہ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا کہتے تھے: میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ اس کو سنگسار کیا۔اور ہم نے مدینہ کی عید گاہ میں بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ۔اس کو سنگسار کیا تھا۔جب پتھر اس پر پڑنے لگے تو وہ بھاگا۔آخر ہم نے اس کو حرہ میں جا پکڑا اور اسے پتھر او کیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔أطرافه: ٥۲۷۰، ٦٨١٤، ٦٨١٦، ٦۸۲۰، ٠٦٨٢٦ ٧١٦٨-