صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 215
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۵ ۶۸ - كتاب الطلاق أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى ابن شہاب نے کہا: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي نے حضرت جابر (انصاری) سے روایت کرتے الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ ہوئے بتایا۔ (وہ کہتے تھے:) اسلم قبیلے کا ایک عَنْهُ فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ شخص في صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ مسجد میں تھے اور کہنے لگا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ فَدَعَاهُ فَقَالَ هَلْ بِكَ جُنُونٌ هَلْ آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ مگر پھر وہ اُدھر ہی أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ گیا جدھر آپ نے منہ پھیرا اور اپنے متعلق چار بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ تمیں کھا کر اپنے خلاف شہادت دی۔ آپ نے حَتَّى أُدْرِكَ بِالْحَرَّةِ فَقُتِلَ۔ اُس کو بلایا اور فرمایا: تمہیں جنون تو نہیں؟ کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے ؟ اُس نے کہا: ہاں۔ آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اُس کو عید گاہ میں سنگسار کیا جائے۔ جب پتھر اس پر پڑنے لگے تو وہ بھاگا۔ آخر حرہ میں جاکر پکڑا گیا اور پھر مار ڈالا گیا۔ أطرافه : ٥٢٧٢، ٦٨١٤، ٦٨١٦ ، ٦٨٢٠، ٦٨٢٦، ٧١٦٨- ٥٢٧١: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۵۲۷۱: ابوالیمان (حکم بن نافع) نے ہم سے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي بیان کیا کہ شعیب ( بن ابی حمزہ) نے ہمیں بتایا۔ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ نے بتایا۔ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص اسلم قبیلے کا فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ الْآخِرَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ