صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 636
ح البخاری جلد ۱۲ YFY ۶۶- کتاب فضائل القرآن تشريح : إِثْمُ مَنْ رَادَى بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأْكُل بِهِ أَو تجريه: جس نے قرآن کو دکھاوے کے لئے پڑھا، یا اس سے روزی کمائی، یا اس کے خلاف عمل کیا۔اس باب میں ایسے افراد کی مذمت کی گئی ہے جو دکھاوے کی تلاوت کریں یا پیسہ کمانے کی غرض سے قرآن پڑھیں۔یا قرآن کریم کے خلاف عمل کریں، ان کی اصل غرض دنیا کمانا اور شہرت طلبی ہو۔لا يُجَاوِرُ حَنَاجِرَهُمُ : وہ (قرآن) اُن کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔حاکم نے ایک روایت حضرت ابوسعید خدری سے بیان کی ہے کہ تم قرآن سیکھو اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو، قبل اس کے کہ ایک ایسی قوم قرآن سیکھے جو اس کے ذریعہ سے دنیا طلب کرے۔قرآن کریم تین طرح کے لوگ سیکھتے ہیں: ایک وہ جو اس کے ذریعہ فخر کرتا ہے۔ایک وہ جو اس کے ذریعہ مال طلب کرتا ہے۔اور ایک وہ جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر پڑھتا ہے۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۲۶) ويتمارَى فِي الْفُوْقِ: سرے (کو دیکھے تو اس میں شک کرے۔تیر کے پچھلے کنارے کو جو کمان کے دھاگے سے ملا ہوتا ہے فوق کہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی مثال اس تیر سے دی ہے جو شکار سے پار گزر جائے مگر اس پر خون اور گوشت وغیرہ کا کوئی نشان نہ ہو۔یہی حال ان لوگوں کا ہو گا کہ باوجودیکہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں گے مگر اس تعلیم کا کوئی مثبت اثر ان پر دکھائی نہیں دے گا اور ان کی حالتوں سے یہ ظاہر ہو گا کہ وہ تعلیم سے بالکل کو رے اور جاہل مطلق ہیں۔الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ: وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”اس حدیث سے قرآن کریم کی مزید وضاحت یہ ہوتی ہے کہ نہ صرف تلاوت ضروری ہے بلکہ اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔جو قرآن کریم پڑھتے بھی ہیں اور اس پر غور بھی کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں وہ ایسے خوشبودار پھل کی طرح ہیں جس کا مزا بھی اچھا ہے اور جس کی خوشبو بھی اچھی ہے۔کیسی خوبصورت مثال ہے کہ ایسا پھل جس کا مزا بھی اچھا ہے جب انسان کوئی مزیدار چیز کھاتا ہے تو پھر دوبارہ کھانے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔تو قرآن کریم کو جو اس طرح پڑھے گا کہ اس کو سمجھ آ رہی ہو گی اس کو سمجھنے سے ایک قسم کا مزا بھی آرہا ہو گا اور جب اس پر عمل کر رہا ہو گا تو اس کی خوشبو بھی ہر طرف پھیلا رہا ہو گا۔اس کے احکام کی خوبصورتی ہر ایک کو ایسے شخص میں نظر آرہی ہوگی۔“ مزید خطبات مسرور جلد ۲ صفحه ۶۸۹) ید تفصیل کے لیے دیکھئے خطبات مسرور جلد دوم صفحه ۶۸۲ تا ۷۹۹ ایڈیشن ۲۰۰۵۔