صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 635 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 635

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳۵ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکلیں گے جیسے فَلَا يَرَى شَيْئًا وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ پھل کو دیکھے اس يَرَى شَيْئًا وَيَنْظُرُ فِي الرِّيْشِ فَلَا میں کچھ نہ پائے۔ لکڑی کو دیکھے تو اس میں کچھ نہ يَرَى شَيْئًا وَيَتَمَارَى فِي الْفُوْقِ۔ پائے۔ پر کو دیکھے تو کچھ نہ پائے اور سرے (کو دیکھے تو اس میں شک کرے۔ أطرافه: ٣٣٤٤، ٣٦١٠، ٤٣٥١، ٤٦٦٧ ، ٦١٦٣، ٦٩٣١، ٦٩٣٣، ٧٤٣٢، ٧٥٦٢- ٥٠٥٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۰۵۹: مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ یچی (بن يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ بن مالک سے، حضرت انس نے حضرت ابو موسیٰ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ (اشعری) سے، حضرت ابو موسیٰ نے نبی صلی اللہ كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيْحُهَا عليہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ مومن طَيِّبٌ وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے وہ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا ترنج (نارنگی) کی طرح ہے جس کا مزہ بھی اچھا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ ہے اور بو بھی اچھی ہے۔ اور وہ مومن جو قرآن الْقُرْآنَ كَالرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ نہیں پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے کھجور کی طرح وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا ہے جس کا مزہ اچھا ہے اس کی مطلق ہو نہیں۔ اور يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ أَوْ منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نیاز بو کی طرح خَبِيْتٌ وَرِيْحُهَا مُرٌّ۔ ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا أطرافه: ٠٥٠٢٠ ٥٤٢٧، ٧٥٦٠۔ حنظل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی کڑوا، یا ( فرمایا) برا اور بو بھی کڑوی۔