صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 597
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۷ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن يَقُوْلُ لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ سنا۔آپ فرماتے تھے: کسی پر رشک نہیں کرنا آتَاهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ چاہے مگر دو شخصوں پر۔ایک وہ شخص جس کو وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللهُ مَالًا فَهُوَ يَتَصَدَّقُ اللہ نے کتاب (قرآن) دی ہو اور وہ رات کی آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ۔گھڑیوں میں اُٹھ کر اس کو پڑھتا ہے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ رات دن به طرفه: ٧٥٢٩۔اس کو صدقات میں خرچ کرتا ہے۔٥٠٢٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۵۰۲۶ ہمیں علی بن ابراہیم نے بتایا کہ ہم سے حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ روح بن عبادہ) نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ عَنْ سلیمان بن مہران اعمش) سے روایت کرتے أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے ذکوان سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي سنا۔وہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے تھے اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ عَلَّمَهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ نہیں کرنا چاہیے مگر دو ہی آدمیوں پر۔ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا ہو اور وہ اس فَسَمِعَهُ جَارٌ لَّهُ فَقَالَ لَيْتَنِي أُوْتِيْتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا کو رات دن پڑھتا ہے اور اس کے پڑوسی نے اس يَعْمَلُ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَهُوَ کو سنا اور کہا: اے کاش مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جو فلاں کو دیا گیا اور پھر میں بھی ویسے ہی کروں يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ فَقَالَ رَجُلٌ لَيْتَنِي جیسے یہ کرتا ہے۔اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوْتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ۔أطرافه: ٧٢٣٢، ٧٥٢٨- نے مال دیا ہو اور وہ اسے حق میں خرچ کرتا ہے۔پھر ایک شخص کہے کاش مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جو فلاں کو دیا گیا، پھر میں بھی وہی کروں جو وہ کرتا ہے۔