صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 596
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۶ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن کے چند ایسے احکام پیش کرے جو ناقابل عمل ہوں یا وہ کچھ ایسی باتیں پیش کرے جو نہایت مفید اور اعلیٰ درجہ کی تعلیمات پر مشتمل ہوں اور بہائیت میں ہوں قرآن کریم میں نہ ہوں۔“ ( تفسير كبير ، سورة العنكبوت، جلدے صفحہ ۶۷۰) آپ مزید فرماتے ہیں: در اصل بات یہ ہے کہ بہائیوں نے قرآن کریم کی تعلیم میں سے بعض پوائنٹ لے کر انہیں ایک علیحدہ تعلیم کے رنگ میں پیش کر دیا ہے ورنہ ہر سچائی قرآن کریم میں موجود ہے۔اور پھر ان لوگوں کی اپنی حالت یہ ہے کہ جب عباس آفندی امریکہ سے واپس آیا تو اس نے لکھا کہ میں سب سے پہلے بہاء اللہ کی قبر پر نماز پڑھنے گیا اور میں نے وہاں سجدہ کیا۔اس قدر شرک میں ملوث ہوتے ہوئے یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم فیل ہو گیا ہے اور اس کی جگہ بہائیت نے لے لی ہے۔حالانکہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس نے دنیا سے بت پرستی کا قلع قمع کر دیا تھا۔لیکن بہائیوں نے دوبارہ بت پرستی شروع کر دی ہے۔کون عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ قبر کی مٹی پر سجدہ کرنا کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔اور کیا ایسا مذ ہب اسلام کے آگے ٹھہر سکتا ہے جس نے عرب سے شرک کو کلی طور پر مٹا دیا تھا اور جس کے بانی نے مرض الموت میں بار بار کہا کہ اللہ تعالیٰ یہود اور نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ایسے عظیم الشان مذہب کے متعلق بہائیوں کا یہ کہنا کہ اسلام فیل ہو گیا ہے نہایت احمقانہ بات ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ العنکبوت، جلدے صفحہ ۶۷۱،۶۷۰) بَاب ۲۰: اِغْتِبَاطُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ عالم قرآن پر رشک کرنا ٥٠٢٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۰۲۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ کی۔انہوں نے کہا: سالم بن عبد اللہ نے مجھ سے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے