صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 557
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵۷ -۶۶- کتاب فضائل القرآن قراء کی تعد اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنی بڑھ چکی تھی کہ وہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ گئے تھے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معابعد جب مسیلمہ نے بغاوت کر کے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر دیا اور ان کے مقابلہ کے لئے حضرت ابو بکر نے خالد بن ولید کو تیرہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ بھیجا تو اس وقت بعض نئے نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کی کمزوری کی وجہ سے متواتر مسلمانوں کو ضمنی طور پر شکست پر شکست ہونے لگی یعنی یہ تو نہیں تھا کہ لشکر اسلامی بھاگ گیا ہو لیکن اس کو کئی مقام چھوڑنے پڑے تھے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جو لوگ قرآن کریم کے حافظ تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ اس سارے لشکر سے مسیلمہ کا مقابلہ نہ کریں صرف ہم لوگ جو قرآن شریف کے جاننے والے ہیں ہمیں ایک الگ لشکر کی صورت میں ترتیب دے کر اس کے مقابلہ کے لئے آگے کریں کیونکہ ہم اسلام کی قیمت جانتے ہیں اور اس کے بچانے کے لئے اپنی جانیں دینے کی قدر ہمیں معلوم ہے۔اُن کی اِس بات کو خالد بن ولید نے مان لیا اور قرآن شریف کے حفاظ صحابہ کو الگ کر دیا اور وہ تین ہزار نکلے۔ان تین ہزار آدمیوں نے اِس شدت سے مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کیا کہ اُس کو پیچھے ہٹ کر ایک محدود مقام میں محصور ہونا پڑا اور آخر اس کا لشکر تباہ ہو گیا۔اس وقت ان حفاظ صحابہ نے شعارِ جنگ کے الفاظ یہ مقرر کئے تھے۔”اے سورۃ بقرہ کے حافظو“۔یہ شعار انہوں نے اس لئے مقرر کیا کہ سورۃ بقرہ قرآن مجید کی سورتوں میں سے سب سے لمبی ہے۔اس لڑائی میں پانچ سو قاری صحابی شہید ہوئے۔ان واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی قرآن کریم لکھا بھی جاتا تھا، حفظ بھی کیا جاتا تھا اور ہزاروں آدمی قرآن شریف کو شروع سے لے کر آخر تک یاد رکھتے تھے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۲۹ تا ۴۳۲) بَابِ ۹: فَضْلُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سورۃ فاتحہ کی فضیلت ٥٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۰۰۲ علی بن عبد اللہ ( مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کیا کہ یحی بن سعید ( قطان) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ