صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 56
صحیح البخاری جلد ۵۶ ۶۵ - كتاب التفسير / الحج موعوده ساعت اتنا تشريح : وَتَرَى النَّاسَ سکری: سورۃ الج کے شروع میں فرماتا ہے کہ زلزلہ کی موع بڑا دہشتناک واقعہ ہے کہ ایک ماں دودھ پیتے بچے کو مارے دہشت کے بھول جائے گی۔ فرماتا ہے: يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٍ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلْ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكرى وَمَا هُمْ بِسُكرى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (الحج : ۲، ۳) یعنی اے لوگو! اپنے رب کو سپر بناؤ۔ یقینا اس گھڑی کا زلزلہ بہت ہی بڑی شے ہے۔ جس روز تم موعودہ ساعت کو دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے کو مارے دہشت کے بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلارہی ہو گی اور ہر حاملہ عورت اپنے حمل کو گرادے گی اور تو لوگوں کو بد مست و مدہوش دیکھے گا بحالیکہ وہ مد ہوش نہیں ہوں گے لیکن در حقیقت اللہ کا عذاب ہی سخت ہو گا۔ بَاب ٢ : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ (الحج : ۱۲) رج (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کی عبادت صرف بد دلی سے کرتے ہیں شَيْ۔ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرُ إِطْمَانَ بِهِ یعنی شک کی حالت میں۔ پس اگر اُن کو کوئی فائدہ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْھے پہنچ جائے تو وہ اس (عبادت) پر خوش ہو جاتے ہیں خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ إِلَى قَوْلِهِ ذَلِكَ اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اپنے منہ هُوَ الضَّلَلُ الْبَعِيدُ (الحج : ۱۲ ، (۱۳) کی سیدھ لوٹ جاتے ہیں۔ وہ دنیا میں بھی گھاٹے میں پڑ جاتے ہیں اور آخرت میں بھی، اور یہی أَتْرَفْنَاهُمْ وَسَّعْنَاهُمْ۔ کھلا کھلا گھاتا ہے۔ وہ اللہ کے سوا اُس چیز کو بلاتے ہیں جو نہ ان کو نقصان پہنچاتی ہے اور نہ نفع دیتی ہے اور یہی انتہائی درجہ کی گمراہی ہے۔ أَتْرَفْنَاهُمْ کے معنی ہیں ہم نے انہیں وسعت دی۔ ٤٧٤٢ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ۴۷۴۲: ابراہیم بن حارث نے مجھے بتایا کہ یحی بن حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ابی بگیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا) اسرائیل نے ہمیں إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ سَعِيدِ بتایا، انہوں نے ابو حصین سے، ابو حصین نے سعید بن بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جبیر سے ، سعید نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما