صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 64 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 64

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۴۴ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة عَنْ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتم قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا له سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ۔ الله رضی عنہ نے الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ أَهُمَا پوچھا: یا رسول الله ! الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْخَيْطَانِ قَالَ إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا إِنْ الْأَسْوَدِ سے کیا مراد ہے ؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں؟ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ هُوَ آپ نے فرمایا: تمہاری گڑی تو بہت چوڑی ہے اگر سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ۔ تم نے ان دھاریوں کو دیکھ لیا۔ پھر فرمایا: نہیں، اس سے مرادرات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔ اطرافه: ١٩١٦، ٤٥٠٩ - ٤٥١١ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۴۵۱۱: (سعید) بن ابی مریم نے ہمیں بتایا۔ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّف ابو غسان محمد بن مطرف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ابو حازم ( سلمہ بن دینار ) نے مجھے بتایا کہ حضرت قَالَ أُنْزِلَتْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ سهل بن سعد سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: یہ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ آیت جو نازل ہوئی : اس وقت تک کھاؤ اور پیو کہ (البقرة: ۱۸۸) وَلَمْ يَنْزِلْ : مِنَ الْفَجْرِ تمہارے لئے سفید دھاری سیاہ دھاری سے (البقرة : ۱۸۸) وَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا نمایاں ہو جائے، اور (اس میں) مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل نہیں ہوئے اور کچھ لوگ ایسے تھے کہ الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ جب وہ روزہ رکھنا چاہتے تو ان میں سے ایک اپنے وَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ پاؤں میں سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ باندھ لیتا اور کھاتا رہتا۔ یہاں تک کہ ان کو الگ الگ دیکھ لیتا۔ رُؤْيَتُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنَ الْفَجْرِ اس لئے اللہ نے اس کے بعد یہ الفاظ نازل کئے فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ یعنی مِنَ الْفَجْرِ اور اس سے انہوں نے جان لیا کہ طرفه ۱۹۱۷ - اس کے تو معنی رات کا دن سے نمایاں ہونا ہے۔ تشریح : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى ۔ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ : روزه کے اوقات میں سے رات کا وقت علی الاطلاق خارج ثابت کرنے کے بعد اب دن کے اوقات کی حدود بتائی گئی ہیں جس میں روزے سے متعلق پابندی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک۔