صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 59
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۹ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة کے منسوخ کئے جانے کا ذکر ہے جو درست نہیں۔ کیونکہ اس آیت میں رمضان کے روزے رکھنے کا اسی شخص کو حکم ہے جو رکھ سکتا ہے اور جو نہ رکھ سکے وہ فدیہ دے، جیسے بوڑھا۔ اس لئے حضرت ابن عباس کی تفسیر ہی صحیح ہے۔ بعض نے يُطِيقُونَهُ کے معنی لا يُطِيقُونَهُ کئے ہیں۔ باب افعال میں نفی اور ازالے کا مفہوم پایا جاتا ہے ، جیسا کہ اس مصرعہ میں فَقُلْتُ يَمِينُ اللَّهِ أَبْرَحُ فَاعِدًا أَي لَا أَبْرَحُ قَاعِدًا - اللہ کی قسم میں نہیں ہٹوں گا، یہیں بیٹھا رہوں گا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۲۶) وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ: يُطِيقُونَهُ کے معانی ہیں لَا يُطِيقُونَ الصَّيَامُ ۔ یعنی جو روزوں کی جو روزوں کی طاقت نہ رکھیں ان پر فدیہ واجب ہے۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک يُطِيقُونَہ کی ایک قرآت يُطوقُونَہ بھی ہے جو حضرت ابن مسعودؓ سے بھی مروی ہے ، بمعنی يُكَلِّفُونَ اطاقته - یعنی اپنی طاقت سے بڑھ کر تکلیف سے روزہ رکھتے ہیں۔ فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۲۶) در اصل استطاعت اور طاقت میں فرق ہے۔ استطاعت طوع مصدر سے باب استفعال ہے، قوی کا بسہولت برداشت کرنا، اور اطاق، طوق سے باب افعال بمشکل اور تکلیف سے برداشت کرنا۔ طوق بمعنی حلقہ ۔ حلقہ کی گولائی اس کی آخری حد ہوتی ہے۔ لفظ طاقت میں یہی مفہوم مضمر ہے۔ جبکہ طوع میں سہولت کا مفہوم ہے۔ طوعی کام وہ ہے جو خوشی نفس سے کیا جائے۔ مثلاً صلاة التطوع یعنی نفلی نماز۔ لفظ طوع قرآن مجید میں اسی مفہوم میں وارد ہوا ہے۔ فرماتا ہے: ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَ هِيَ دُخَانَ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْأَرْضِ اخْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَابِعِينَ ) ( حم السجدة : (۱۲) پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ محض ایک کہر کی طرح تھا اور اس نے اس سے اور زمین سے کہا: دونوں اپنی مرضی سے یا مجبور ہو کر میری فرمانبرداری کے لئے آجاؤ۔ ان دونوں نے کہا: ہم فرمانبردار ہو کر آگئے ہیں۔ اگر لفظ يُطِيقُونَہ کا مذکورہ بالا مفہوم مد نظر رکھا جائے تو آیت کا مقصود سمجھنے میں کوئی دقت نہیں۔ عام حالات میں بھوک برداشت کر لی جاتی ہے اور قومی کو بجائے نقصان پہنچنے کے فائدہ ہوتا ہے کہ انہیں وقفہ مل جاتا ہے۔ لیکن بحالت بیماری بھوک سے قوی جسمانیہ و ذہنیہ کو جو نقصان پہنچے گا وہ در حقیقت قوت برداشت سے بڑھ کر ہو گا۔ اس صورت میں افطار اور فدیہ لازم ہوں گے۔ اس تعلق میں کتاب الصوم باب ۳۹ بھی دیکھئے۔ باب ٢٦ : فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (البقرة: ١٨٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: تم میں سے جو یہ مہینہ پائے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے ٤٥٠٦ : حَدَّثَنَا عَيَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ۴۵۰۶: عیاش بن ولید نے ہمیں بتایا کہ عبدالاعلیٰ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ نے ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ نے ہمیں بتایا۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر عَنْهُمَا أَنَّهُ قَرَأَ : فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِيْنَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے