صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 58
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۸ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة ٤٥٠٥ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۵۰۵: اسحاق بن راہویہ) نے مجھ سے بیان رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا کیا کہ روح بن عبادہ) نے ہمیں خبر دی کہ زکریا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ سَمِعَ بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن دینار ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ نے ہمیں بتایا۔ عطاء بن ابی رباح) سے روایت فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ (البقرة : ١٨٥) ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کو یوں قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَيْسَتْ بِمَنْسُوحَةٍ هُوَ پڑھتے ہوئے سنا: وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ یعنی جو الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ لَا اپنی طاقت سے بڑھ کر تکلیف سے روزہ رکھتے ہیں يَسْتَطِيعَانِ أَنْ يَصُومًا فَلْيُطْعِمَانِ وہ بے شک روزہ نہ رکھیں) ان پر فدیہ دینا ضروری ہوگا ایک آدمی کا کھانا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: یہ (حکم) منسوخ نہیں، اس سے مراد بہت ہی بوڑھا شخص اور بہت ہی بوڑھی عورت ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا۔ ہر روز کا فدیہ ایک مسکین کو کھلائیں۔ تشريح : فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ فَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ : اس آیت کے تعلق میں بعض اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے، تا اس کی شرح واضح ہو۔ یہ سوال کہ روزہ چھوڑنے کے لئے بیماری کی حد کیا ہو ؟ فقہا کے درمیان موضوع اختلاف رہا ہے۔ چنانچہ عطاء کا فتوی نقل کیا گیا ہے کہ مطلق بیماری میں افطار کیا جا سکتا ہے۔ آیت فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا میں ان کے نزدیک کوئی تخصیص نہیں۔ جمہور کے نزدیک ایسی بیماری مراد ہے جس میں پانی کے باوجود تیم کرنا جائز ہو اور روزہ رکھنے سے جان کا یا کسی عضو کو نقصان پہنچنے یا بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو۔ ابن سیرین کا فتویٰ عطاء کے قول کی طرح ہے کہ انسان کی حالت ایسی ہو جس پر بیماری کا لفظ بولا جا سکتا ہو۔ ابراہیم نخعی کا فتوی ہے کہ جب کوئی بیماری کی وجہ سے کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو اسے روزہ بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ عنوان باب کی ذیل میں حاملہ اور مرضعہ سے متعلق حسن بصری اور ابراہیم نخعی کا فتویٰ بھی منقول ہے۔ ظاہر ہے کہ حمل و رضاعت بیماری نہیں بلکہ طبعی حالت ہے۔ لیکن روزہ سے جنین یا دودھ پیتے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، اسی طرح بڑھاپے میں بھی۔ ان حالات میں فدیہ دیا جائے گا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۲۵) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ : اگلے باب کی روایت نمبر ۴۵۰۷) میں آیت فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (البقرة: ۱۸۶) کے ذریعہ آیت وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ (البقرة: ۱۸۵)