صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 47
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۷ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة بَاب ۲۰ : وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ * اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور تو جس جگہ سے (بھی) نکلے اپنی توجہ مسجد حرام کی طرف پھیر دے وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَ لَعَلَّكُمْ اور تم (بھی) جہاں کہیں ہو اپنے منہ اس کی طرف تَهْتَدُونَ (البقرة : ١٥١) کیا کرو۔ تا اُن لوگوں کے سوا جو ان ( مخالفوں) میں سے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں (باقی) لوگوں کی طرف سے تم پر الزام نہ رہے۔ سو تم ان (ظالموں) سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو ( یہ حکم میں نے اس لئے دیا ہے کہ تم پر لوگوں کا الزام نہ رہے) اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ ٤٤٩٤ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ۴۴۹۴ : قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مَّالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ مالک سے ، مالک نے عبداللہ بن دینار سے ، ابن ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ دینار نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں الصُّبْحِ بِقُبَاءِ إِذْ جَاءَهُمْ آتِ فَقَالَ نے کہا: اس اثنا میں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں تھے ، ان کے پاس ایک آنے والا آیا۔ اس قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوْهَا وَكَانَتْ وحى: وحی نازل کی گئی ہے اور آپ کو حکم ہوا ہے کہ کعبہ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوْا إِلَى الْقِبْلَةِ۔ کو قبلہ بنائیں ۔ اس لئے تم بھی اس کو قبلہ بناؤ۔ ان کے منہ شام کی طرف تھے اور وہ قبلہ کی طرف پھر گئے۔ اطرافه ٤٠٣ ٤٤٨٨ ، ٤٤٩٠، ٤٤٩١ ، ٤٤٩٣، ٧٢٥١۔ تشريح : وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : شَطْرُهُ تِلْقَاءُهُ - یعنی جس جہت میں بیت اللہ واقع ہے، اس کی طرف اس آیت کی شرح کے لئے بھی صحابہ کرام کا عمل پیش کیا گیا ہے ، جس کا ذکر حضرت ابن عمرؓ کی روایت میں گزر چکا ہے۔ اس کا تکرار نئی سند سے ہے۔