صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 199 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 199

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۹۹ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء تشريح : فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ : پوری آیت یہ ہے: ہے: فَلَا وَ رَبَّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُ وَافِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا میں تسليمان (النساء: ۶۶) ترجمہ : پس تیرے رب کی قسم ہے کہ جب تک وہ (ہر ) اس بات میں جس کے متعلق ان جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنائیں (اور) پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے اپنے نفوس میں اس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار (نہ) ہو جائیں ہر گز ایمان دار نہ ہوں گے۔ واقعہ مذکورۃ الصدر سے بھی تطبیق آیت مراد ہے جيسا كہ الفاظ فَمَا أَحْسِبُ دلالت کرتے ہیں۔ آنحضرت آنحضرت صلی علیم کے پہلے فیصلہ میں و میں وسعت و رعایت تھی جس سے انصاری نے فائدہ نہ اٹھایا اور حضرت زبیر کو ان کا پورا حق دیا گیا۔ صد الليل باب ۱۳ : فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ (النساء : ٧٠) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) یعنی وہ لوگ انہی کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبیوں کے ساتھ ٤٥٨٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۵۸۶: محمد بن عبد اللہ بن حوشب نے ہم سے بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم) سے ، انہوں نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: میں نے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ ۔ الله سلم صلی علیم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: جو نبی بیمار ہوتا نَّبِيِّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيْرَ بَيْنَ الدُّنْيَا ہے تو اس کو دنیا اور آخرت کے بارے میں اختیار وَالْآخِرَةِ وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ دیا جاتا ہے اور آپ کو اس بیماری میں جس میں فِيهِ أَخَذَتْهُ يُحَةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ آپ اٹھائے گئے تھے۔ آپ کا گلا سخت بیٹھ گیا مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ تھا۔ میں نے آپؐ کو سنا، فرماتے تھے: وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام وَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ کیا ہے۔ یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور (النساء: ٧٠) فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خَيْرَ ۔ صالحین (میں)، تو میں اس سے سمجھ گئی کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ أطرافه ٤٤٣٥ ٤٤٣٦ ، ٤٤٣٧ ، ٤٤٦٣ ، ٦٣٤٨ ، ٦٥٠٩ -