صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 88
صحیح البخاری جلد ۱۰ AA ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة خطاب ہے کہ انہیں اس سے نہ روکا جائے۔ مفسرین کو اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں عورتوں کے ولی مخاطب ہیں۔ جیسا کہ روایت زیر باب کی دوسری سند میں صراحت ہے کہ حضرت معقل نے اپنی بہن کو اپنے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے سے روکا۔ یہ روایت کتاب النکاح باب ۳۶ روایت نمبر ۵۱۳۰ میں قدرے تفصیل سے نقل کی گئی ہے۔ سورۃ النساء میں بھی عورتوں پر ظلم و جبر کرتے ہوئے نکاح کے بارے میں پابندی عائد کئے رے بندی عائد کئے رکھنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ (النساء:۲۰) تم انہیں (نکاح سے ) نہ رو کو تا تم نے جو انہیں دیا ہے وہ لے جاؤ۔ اس ، جاؤ۔ اس ضمن میں کتاب التفسیر، سورۃ النساء، باب ۶ قائم کیا گیا ہے۔ بَاب ٤١ : وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور تم میں سے جن (لوگوں) کی روح قبض کر لی جاتی ہے اور وہ (اپنے پیچھے ) بیویاں چھوڑ جاتے ہیں يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ (چاہئیے کہ ) وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے عَشْرًا إِلَى بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (اور) دس (دن) تک روک رکھیں پھر جب وہ (البقرة: ٢٣٥) اپنا مقررہ وقت پورا کر لیں وہ اپنے متعلق مناسب طور پر جو کچھ (بھی) کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔ يَعْفُونَ (البقرة: ۲۳۸) يَهَبْنَ۔ يَعْفُونَ کے معنی ہیں ہبہ کر دیں۔ (یعنی یونہی دیں۔) ٤٥٣٠ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ۴۵۳۰: امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حَبِيبٍ عَنِ يزيد بن زریع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قُلْتُ (بن شہید) سے، حبیب نے ابن ابی ملیکہ سے سے لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ روایت کی کہ (حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا: میں نے حضرت عثمان بن عفان سے وَ الَّذِينَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا ( البقرة: ٢٤١) يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سے متعلق قَالَ قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى فَلِمَ پوچھا۔ ( ابن زبیر نے) کہا: اس کو دوسری آیت تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي لَا نے منسوخ کر دیا ہے۔ پھر آپ نے اس کو لکھوایا