انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 11

۵ انوار العلوم جلد ۔ قیام توحید کیلئے غیرت مرة ونصلى على رسول المالكي قیام توحید کیلئے غیرت ( حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے ولایت میں احمد یہ مسجد بنانے کے متعلق ہے ،جنوری ہ کو بعد نماز عصر حسب ذیل تقریر فرمائی ) ۱۹۲۰ ( حضور نے تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسانی پیدائش میں فطرتی باتیں انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ نے بعض نے بعض باتیں ایسی رکھی ہیں کہ گوان کو رسم ورواج اور عادات کئی کئی طرز پر ڈھال دیتےہیں کی بدل سکتی خلا صہ ہے یہ اک فطری امر ہے۔ دیتے ہیں مگر ان کی اصلیت نہیں بدل سکتی ۔ مثلاً غصہ ہے یہ ایک فطرتی امر ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ عیسائی کو کسی اور امر پر غصہ آئے ہیں یہ تو ممکن ہے کہ ہر قوم کے شخص کو مختلف وجوہ پر غصہ آئے لیکن یہ یہ نہیں نہیں کہ کہ غصہ بعد میں میں پیدا کیا جاتا نہور کوئی فلسفہ ثابت نہیں کر سکتا کہ غصہ بعد میں پیدا ہوتا ہے ا کھایا جاتا ہے ۔ ان تعلیم اور تخلف اثرات کے ماتحت صفہ کا مقام بدل جاتا ہے۔ ایک سلمان کو اس وقت غصہ آئے گا جب اللہ کو بُرا کہا جائے۔ ایک عیسائی کو غصہ آئے گا مگر اس وقت جب خدا کے بیٹے کی شان میں کچھ بڑے الفاظ کے جائیں ۔ ایک ہندو کو اللہ کے لفظ پر غصہ نہ آئیگا ۔ بکہ بعض اوقات کوئی بڑی طبیعت کا ہندو اللہ کو بُرا کہ جائیگا مگر اس کو اس وقت غصہ آئے گا جب ہر ہا ، شود غیر ناموں کو برا کہا جائے ۔ اسی طرح ایک مسلمان کو اس وقت غصہ آئیگا جب بیت اللہ کو گالی دی جائے لیکن ایک ہندو کو بیت اللہ کے بُرے کیے جاتے وقت بُرا معلوم نہ ہوگا ۔ ہاں جب بنارس کی ہتک کی جائے تب اس کو جوش آئے گا۔ مگر ایک عیسائی کا غصہ ان دونوں سے علیحدہ ہے وہ نہ بیت اللہ کو برا کہنے سے ناراض ہوتا ہے نہ بنارس کو ۔ بلکہ اس کو اس وقت غصہ آتا ہے