انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 12

انوار العلوم جلد ۵ ۱۲ قیام توحید کیلئے غیرت جب ناصرہ کو بُرا کہا جاتا ہے۔ مگر ایک یہودی کو اس وقت طیش آتا ہے جب یروشلم کو برا کہا جائے دیکھو غصہ میں فرق نہیں۔ غصہ سب کو آتا ہے۔ مگر غصہ کے آنے کے مقامات میں اختلاف ہے ۔ غصہ کے آنے میں افریقہ کے حبشی اور انگلستان، امریکہ کے سفید منہ والے دونوں برا بر ہیں ۔ مگر ان سب کو ایک برابر ۔ مگران ہی بات پر غصہ نہیں آتا بلکہ ان کو غصہ آنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہیں۔ ایک ہندو ایک بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر رحم کھاتا ہے ۔ مگر ایک مسلمان بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر رحم کے جذبہ سے متاثر نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اس کو اپنی خوراک خیال کرتا ہے اور ایک قاعدہ جاریہ خیال کرتا ہے لیکن ایک ہندو ایک جانور کو ذبح ہوتے دیکھ کر رحم کھائے گا مگر ایک مسلمان کو اس جرم پر مارتے ہوئے اس کے دل میں رحم پیدا نہ ہوگا۔ پس عادت ، رسم و رواج اور تعلیم وغیرہ رحم کی تعلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ فطرتی جذبہ ہے ہاں یہ باتیں رحم کے مقام کی تعلیم کرتیہیں پیس رحم فطرتی امر ہے لیکن رحم کے مقام فطری امر ہیں مثلاً ایک شخص عیسائی ہو جائے یا مسلمان ہو جائے۔ تو پہلے جن باتوں کی ہنگ سے اس کو غصہ یا جن چیزوں پر ظلم اس کے رحم کو کھینچتا تھا اس میں فرق آکر اس کے مقام بدل جائیں گے ۔ جذبہ غیرت ان فطرتی جذبات میں سے ایک امر غیرت بھی ہے۔ فلسفی کہتے ہیں کہ غیرت سکھائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بعض علاقے اس قسم کے ہیں کہ وہاں بہن کی شادی بھائی سے ہو جاتی ہے مگر غیرت کے متعلق ان کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا مقام سکھایا جاتا ہے اور ہر جگہ غیرت کے اظہار کے لئے جدا جدا مقام ہوتے ہیں بعض لوگ عزت و ناموس کے لئے غیرت مند نہیں ہوتے۔ بعض مال کے لئے ہوتے ہیں، بعض مال کی پرواہ نہیں کرتے مگر ملکوں کے لئے مرتے ہیں۔ ان کی عزت و آبرو جائے ، ننگ و ناموس مٹے تو مٹے ، مگر وہ اس بات کو گوارا نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ان کے ملک کی زمین کے چپہ پر بھی قابض ہو، مگر ایک اور لوگ ہوتے ہیں جن کو مال و عزت ، ننگ و ملک کے لئے کوئی غیرت نہیں ہوتی ۔ البتہ وہ تجارت پر جان لڑا دیتے ہیں ۔ یورپ کے وہ فلسفی اس نکتہ کو نہیں سمجھتے جو کہتے ہیں کہ یہ جذبات پیدا کئے جا سکتے ہیں اور غیرت وغیرہ سکھائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ باتیں ہر قوم میں فطرتاً پیدا شدہ ہوتی ہیں مگر ان کے مقامات سکھائے جاتے ہیں ۔ بس یہ امور فطرتی ہیں اور ان کے استعمال نسبتی امور ہیں۔ ہاں تو غیرت جو ایک فطرتی جذبہ ہے کئی رنگ میں ظاہر ہوتی ہے جو چیز جس کو محبوب ہوتی ہے ، وہ اسی کے لئے غیرت دکھاتا ہے ایک دلیر اور شجاع کو مال کے چوری ہو جانے ، زراعت کے برباد ہونے ، تجارت کے خراب ہونے سے غیرت نہیں آئیگی۔ مگر جب وہ میدان جنگ میں جائیگا تو اس کی غیرت جوش میں آئیگی او املی اور اس سے