انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 517

انوار العلوم جلد ) ۵۱۷ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سادہ زندگی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی ہمارے ہادی اور راہنما آنحضرت میں یہ چونکہ رحمۃ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اسوه حشه اللہ تعالی نے آپ کو کل دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لئے آپ نے ہمارے لئے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے درست اور اعلیٰ ہے اور اس قابل ہے کہ ہم اس کی نقل کریں۔ آپ نے اپنے طریق عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ جذبات نفس جو پاک اور نیک ہیں ان کو دبانا تو کسی طرح جائز ہی نہیں بلکہ ان کو تو اُبھارنا چاہئے اور جو جذبات ایسے ہوں کہ ان سے گناہوں اور بدیوں کی طرف توجہ ہوتی ہو ان کا چھپانا نہیں بلکہ ان کا مارنا ضروری ہے۔ پس اگر تکلف سے بعض ایسی باتیں نہیں کرتے جن کا کرنا ہمارے دین اور دنیا کے لئے مفید تھا تو ہم غلط کار ہیں اور اگر وہ باتیں جن کا کرنا دین اسلام کے رو سے ہمارے لئے جائز ہے صرف تکلف اور بناوٹ سے نہیں کرتے، ورنہ دراصل ان کے شائق ہیں، تو یہ نفاق ہے اور اگر لوگوں کی نظروں میں عزت و عظمت حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو خاموش اور سنجیدہ بناتے ہیں تو یہ شرک ہے۔ آنحضرت میں کی زندگی میں ایسا ایک بھی نمونہ نہیں پایا جاتا جس سے معلوم ہو کہ آپ نے ان تینوں اغراض میں سے کسی کے لئے تکلف یا بناوٹ سے کام لیا بلکہ آپ کی زندگی نہایت سادہ اور صاف معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عزت کو لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عزت و ذلت کا مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے۔ ا دینی پیشواؤں میں تصنع جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ نہایت نیک سمجھیں۔ اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیر تک وضو کے اعضا کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پر ہیز کریں گے، گے ، سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے اپنی شکل سے خاص حالت خشوع و خضوع