زندہ درخت — Page 79
زنده درخت وفات پاگئی۔گھر پر نماز جنازہ پڑھائی اب تدفین کا مرحلہ آیا تو لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے۔ایک گروہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے کے حق میں تھا دوسرا مخالف تھا۔جھگڑے کی صورت پیدا ہوگئی وہاں احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی کے کچھ واقعات ہو چکے تھے یہ سخت آزمائش کا وقت تھا۔پولیس کی مدد سے فساد سے بچاؤ ہو گیا۔آپ اس واقعہ کے بعد قادیان واپس آگئے اور 1946ء میں زندگی وقف کر دی جنوری 1948ء میں آ۔کی تقرری غانا مغربی افریقہ میں بطور تاجر مبلغ ہوئی۔آپ کے والد صاحب کے خواب میں اللہ تعالیٰ نے آپکا نام ملک غنی بتایا تھا۔عجیب قدرت خداوندی ہے کہ سب اولاد میں سے صرف آپ کو سمندر پارسفر اور قیام کے مواقع میسر آئے اور وہ بھی طویل عرصہ تک، آپ نے 30 سال کا عرصہ وطن سے دور گزارا۔1963 میں واپس آئے۔غانا سے واپسی کے بعد فیکٹری ایریا میں سکونت اختیار کی۔اس حلقہ کی بیت میں کئی سال با قاعدگی سے درس قرآن دیتے رہے، مختلف جماعتی عہدے بھی آپ کے پاس رہے۔واقف زندگی ، خادم سلسلہ کے تمام حالات اور معاملات کا نگہبان اور کفیل اللہ تعالیٰ خود ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بچوں کی اچھی تربیت و تعلیم کی توفیق دی۔آخری بیماری میں آپ کے بیٹے لیفٹینٹ کرنل (ر) نیم سیفی صاحب اور ان کی بیگم امتہ الرافع صاحبہ نے خدمت کا موقع پایا۔اللہ تعالیٰ اجرعظیم سے نوازے۔مولوی صاحب موصوف کی یاداشتوں میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہوا ملا ہے: 1955ء کی بات ہے حضرت مصلح موعود لندن تشریف لائے میں بھی اُن دنوں لندن میں تھا۔ایک دن ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو دیکھا کہ پان کھا رہے ہیں میں نے حیران ہو کر پوچھا ڈاکٹر صاحب یہ پان کہاں سے؟ فرما یا والدہ صاحبہ ناصر احمد کو ٹیکہ لگانے گیا تھا انہوں نے عنایت فرمایا ہے پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ بھی کھایا کرتے ہیں میں نے عرض کی کھایا ہی کرتا ہوں مگر اب یہاں نہیں ملتے۔79