زندہ درخت — Page 75
زنده درخت 13- حضرت میاں فضل محمد صاحب کی اولاد -1- محتر مہ رحیم بیا بی صاحبہ اہلیہ محترم ماسٹر عطا محمد صاحب حضرت میاں فضل محمد صاحب کی پہلی بیٹی تھیں ہرسیاں میں پیدا ہوئیں قبول احمدیت کے بعد جب قادیان آنا جانا شروع ہوا تو اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ الدار میں بچپن کے دن گزرے۔حضرت اقدس کی شفقت اور بچی کی بھولی بھالی فرمائش کا واقعہ بے حد پر لطف ہے کہ حضرت اقدس کو پنکھا جھلتے جھلتے کھڑکی پر چڑھ کر بیٹھ گئیں اور کہا کہ اگر آپ یہاں آجائیں تو میں پنکھا جھلوں گی اور آپ تشریف لے آئے بچی کی فرمائش اپنی تصنیف کا کام چھوڑ کر پوری کر دی۔اس طرح آپ بھی رفقائے مسیح موعود میں شامل ہو گئیں۔ان کا رشتہ مکیریاں کے حضرت ماسٹر عطا محمد صاحب سے ہوا۔رشتے کے لئے خط میں ماسٹر صاحب نے لکھا کہ نوجوان ہوں ملازم ہوں، چھوٹی سی ملازمت ہے ، رقم مل جائے تو ٹھیک ورنہ ٹھوٹھا اوندھا ( برتن اُلٹا ) ہو جاتا ہے، اس صاف گوئی پر توکل علی اللہ کرتے ہوئے میاں صاحب نے رشتہ قبول کر لیا۔اللہ کے فضل سے دین کا ایسا خدمت گزار داماد ملا جس نے حکومت کی سروس سے ریٹائر ہو کر تیس سال تک جامعہ احمدیہ میں درس و تدریس کا کام کیا۔آپ کے بیٹے نسیم سیفی صاحب واقف زندگی، مربی ، ایڈیٹر الفضل اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے بچپن میں اپنی والدہ کو قادیان میں قیام کے دوران ہر روز صبح جاگنے کے بعد مکان کے ایک حصے میں تھڑے جیسے جائے عبادت پر بیٹھے۔نماز پڑھتے اور دعائیں کرتے دیکھا اس کے بعد دعاؤں بھرے ہاتھوں سے ناشتہ دیتیں۔بچوں کو پڑھانے کا بے حد شوق تھا۔قادیان میں مکان بنانے کے شوق میں اپنا زیور اخراجات کے لئے دے دیا۔14 اکتوبر 1928ء کو فوت ہوئیں۔75