زندہ درخت — Page 67
زنده درخت خاکسار راقمہ کے اباجان نے اپنی پیاری ماں کی یاد کے حوالے سے دو باتیں بتائیں پہلی بات اپنی شادی کے وقت اُن کی فراست اور توکل علی اللہ کی جو ایک مثال ہے۔ان کا یہ اندازہ کہ جس بچی کو وہ دیکھ کر آئی تھیں جنت کی حور ہے زندگی بھر کے ساتھ نے ثابت کیا که حقیقتاً درست تھا۔دوسری یا د قادیان ہجرت کرنے کے بعد کی ہے قادیان جس محلے میں آپ نے مکان بنایا اُس کا نام حضور انور نے دارالفضل“ اور مکان کا نام فضل منزل رکھا۔حضرت اماں جان ( اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے) تشریف لائیں تو فرمایا: برکت بی بی آپ کو مبارک ہو۔آپ کو زمین بھی مل گئی اور نام بھی آپ کے میاں کے نام پر دار الفضل رکھا گیا۔محتر مہ صادقہ صاحبہ اہلیہ مولوی محمد شریف صاحب جو خاکسار کی پھوپھی ہیں تحریر کرتی ہیں :۔”ایک دفعہ والدہ برکت بی بی صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود اپنے گھر میں ٹہل رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور بغل میں سبز رنگ کے کپڑے کا تھان ہے۔اتنے میں حضرت مولانا نورالدین صاحب تشریف لے آئے تو حضرت اقدس نے وہ کتاب اور سبز رنگ کے کپڑے کا تھان مولانا نورالدین صاحب کو دے دیا اور تشریف لے گئے۔پھر وہیں مولانا نور الدین صاحب ٹہلنے لگ گئے کہ اتنے میں میاں محمود تشریف لے آئے تو مولانا نورالدین صاحب نے وہ کتاب اور سبز رنگ کے کپڑے کا تھان میاں محمود کو دے دیا۔اور چلے گئے۔اب مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ یہ خواب والدہ صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود کو سنائی یا نہیں۔ہاں یہ یاد ہے کہ والدہ نے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کو یہ خواب سنائی تھی تو حضور نے فرمایا تھا کہ یہ خواب چھپواد ہیں۔مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے یہ خواب چھپوائی یا نہیں۔“ (الفضل 25 /اگست 2001ء) بزرگوں کے تذکرہ کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے دُعا نکلتی ہے کہ مولا کریم ہمیں بھی ان کی قربانیوں کے صدقے اپنے فضل واحسان سے اپنے چنیدہ بندوں میں شامل کرے۔آمين اللهم آمين 67