زندہ درخت — Page 60
زنده درخت بے دردی سے مارتے تھے۔عام طور پر ہر گڈے کے ساتھ پانچ چھ آدمی ہوتے تھے۔نانا جان فوراً اُن کو پکڑتے اور گڑوں کو کھڑا کر لیتے اور اُن سے وعدہ لیتے کہ وہ آئندہ جانوروں پر ظلم نہیں کریں گے۔اس بات کا ان لوگوں میں اتنا چرچا ہوا کہ وہ نانا جی کی دوکان سے ایک فرلانگ قبل جانوروں کو مارنا بند کر دیتے اور اسی طرح جب دوکان سے بہت آگے نکل جاتے تب تک جانوروں کو کچھ نہ کہتے۔اور آپس میں سرگوشیاں کرتے کہ جب تک ہم دوکان سے بہت آگے نہ نکل جائیں جانوروں کو نہیں مارنا ورنہ ”بابا مغر پے گیا تے اپنے مغروں نہیں کیا بابا پیچھے پڑ گیا تو پیچھا نہیں چھوڑے گا)۔- جب بھی کوئی جنازہ دوکان کے سامنے سے گزرتا تو نانا جان سب کام چھوڑ کر ساتھ جاتے۔نماز جنازہ پڑھتے اور دفتا کر واپس آتے۔چاہے مرحوم کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔-4- میری نانی جان محترمہ صوباں بی بی صاحبہ نہایت پیار کرنے والی اور نیک خاتون تھیں۔ماموں عبدالرحیم صاحب مرحوم کا مکان ریتی چھلہ کے سامنے واقع تھا۔یہ دومنزلہ مکان تھا۔گراؤنڈ فلور ایک بڑا ہال تھا اور اوپر رہائش تھی۔گراؤنڈ فلور ہال میں محترمہ نانی صاحبہ کا انتقال ہوا۔چار پائی کے چاروں طرف تمام خاندان کے لوگ جمع تھے۔میں بھی نانی مرحومہ کے سرہانے کے پاس بیٹھا تھا۔میرے بائیں طرف نانا جان مرحوم بیٹھے تھے نانی جان نے آخری سانس لے لیا تو نا نا جان مرحوم نے گڑ گڑا کر کہا ” صوباں بی بی اِک ساہ (سانس) میرے کہن تے ہور لے لئے حیرانگی کی حد نہ رہی جب نانی اماں نے تقریباً ایک منٹ کے بعد ایک اور سانس لیا اور اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے آمین۔الھم آمین۔60 160