زندہ درخت — Page 59
زنده درخت اکثر دعا دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ (خدا میرے لڑکے نوں وی اور تینوں وی مربی بناوے) مولوی عبد الغفور صاحب مدرسہ احمدیہ کی بڑی جماعت میں پڑھا کرتے تھے اور بہت اچھا بولتے تھے ہمارے ارد گرد جس قدر پڑوسی تھے سب کے سب نمازی پرہیز گار لوگ تھے۔“ (الفضل 29 جون 2005ء) ضرت نانا جان کی چند خوبصورت یادیں تحریر : چوہدری فاروق احمد صاحب لاہور نانا جان کی دوکان ایک بڑی سڑک پر واقع تھی یہ سڑک ریتی چھلہ ( قادیان کا وسطی حصہ جو کہ ایک بہت بڑی گراؤنڈ ہے اور جس کے اردگرد چار دیواری تھی ) سے شروع ہو کر اسکول اور کالج کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن کو کراس کر کے آگے چلی جاتی تھی۔دوکان کے عقب میں ایک کمرہ تھا۔جہاں ہم رہتے تھے اور آگے بڑا صحن تھا۔دوکان کو ہمارے کمرہ سے بذریعہ ایک چھوٹے دروازہ کے راستہ تھا۔نانا جان اس راستے سے روز دوکان کھولتے اور اندر سے ہی بند کرتے۔اس طرح نانا جان ہمارے ہاں ہر روز دو دفعہ تشریف لاتے۔1 - ہم میں سے اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو جب نانا جان تشریف لاتے تو اماں جان مرحومہ اُن کو بتا تیں کہ مثلاً فاروق کو فلاں تکلیف ہے۔تو آپ فرماتے صالحہ گڑ لاؤ۔آپ گڑ کی گولی بناتے۔اس پر کچھ پڑھتے اور میں وہ گولی کھا لیتا۔یہ میرا حیران کن تجربہ ہے کہ ہر قسم کی بیماری اُن کی اس گڑ کی گولی سے ٹھیک ہو جاتی۔- 2- باہر کے علاقوں سے (سردار صاحبان ) بڑے بڑے گڑوں ( بیل گاڑی) پر بہت زیادہ سامان لاد کر لاتے اور نانا جان کی دوکان کے سامنے سے شہر جانے کے لئے گزرتے۔ایک تو گڑوں پر بہت زیادہ سامان لدا ہوتا تھا دوسرے یہ لوگ جانوروں کو بڑی 59