زندہ درخت

by Other Authors

Page 56 of 368

زندہ درخت — Page 56

زنده درخت مکرم میاں فضل محمد صاحب اس زمانہ میں اپنی جوانی گزار چکے تھے اور ادھیڑ پن میں زندگی بسر کر رہے تھے سر اور داڑھی کے بالوں کی سفیدی منت پذیر حنا تھی اور ان کا حنائی رنگ ہر جمعہ کو تازہ کرنا میاں صاحب کا معمول تھا۔میاں صاحب کی دکان میں دودھ دہی۔گرمیوں میں سوڈا واٹر۔رس، بسکٹ، باقر خوانی اور چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لئے کھانڈ کی مختلف رنگوں کی گولیاں شیشے کی کھلی بوتلوں میں موجود ہوتی تھیں۔دوکان کے سامنے ایک بڑے چولہے پر دودھ ایک بڑے کڑاہ میں کڑھتا رہتا تھا اور اس کو کاڑھنے کا کام میاں صاحب کے سپر د تھا۔آپ کے ہونٹ حمد باری تعالیٰ میں ہلتے رہتے تھے اور ہاتھوں سے دودھ کو متواتر ہلانے کا کام ہوتا تھا اور یوں میاں صاحب دست بکار اور دل با یار کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے۔میاں صاحب خاموش طبع انسان تھے چہرہ پر ہمیشہ ایک اطمینان اور طمانیت کے آثار موجود ہوتے۔متوسط قدوقامت ضعف پیری کی شکایت کے زمانہ سے ابھی کچھ فاصلہ پر تھے۔بڑا پر وقار چہرہ جس سے متانت اور قناعت کا اظہار ہوتا تھا۔یہی آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تھا۔اسکول اور خصوصاً بورڈنگ ہاؤس میں رہائشی طلباء آپ کے فیض عام سے خصوصیت کے ساتھ فیض یاب ہوتے تھے۔یوں تو میاں صاحب ایک دل گداز اور نرم دل رکھتے تھے لیکن انتظامی امور اور عام ڈسلپن کے معاملات میں ان سے رعایت کی توقع مشکل ہوتی۔آپ کے کاروبای معاون آپ کے چھوٹے بیٹے میاں عبد اللہ صاحب تھے اور جن ایام کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ ان کی عین جوانی و شباب کے دن تھے چھوٹی چھوٹی سیاہ داڑھی ہنستا اور مسکراتا ہوا چہرہ۔نہایت درجہ مخلص اور فرمانبردار بیٹے میاں عبداللہ صاحب تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت ڈالے آپ کے بڑے تینوں بھائی تو جنت کے مکیں ہیں اور آپ ابھی تک حیات ہیں گو عمر کے اس حصہ میں بعض عوارض کا شکار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو کامل صحت اور راحت دل نصیب فرمائے۔مکرم میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں سے نقل مکانی کر کے اپنے اہل وعیال کو لے کر قادیان میں آبسے۔اور محلہ دار الفضل میں حضرت امام جماعت الثانی (اللہ تعالیٰ کے 56