زندہ درخت

by Other Authors

Page 324 of 368

زندہ درخت — Page 324

زنده درخت تھے کہ اللہ ایسے لوگوں کو حقیقی نمازی بنادے۔تھی۔(6) بیت مبارک جب پہلے پہل بنی تھی تو اپنے سکونتی محل پر بجانب جنوب بنائی میں نے عشاء کے وقت قطب ستارہ دیکھ کر عرض کیا کہ حضور بیت کا رُخ عین سیدھا نہیں معلوم ہوتا۔فرمایا اسلام کھلا ہے تنگ نہیں اس لئے چھوٹی چھوٹی نکتہ چینی منع ہے۔(7) ایک دفعہ فرمایا دین عموماً غریبوں کا حصہ ہے۔امیر عموماً اس سے بے نصیب رہ جاتا ہیں۔چنانچہ پہلے نبیوں کو بھی غریبوں نے ہی ابتدا میں مانا تھا۔اب دیکھ لو غریب آدمی سفر میں ہو تو ہر جگہ نماز پڑھ سکتا ہے مگر امیر ایسا نہیں کر سکتا۔اگر رستے میں کوئی جو ہر آ جائے تو وہ وہاں وضو نہیں کرے گا اور اگر صاف پانی مل بھی جائے تو کپڑوں کے خراب ہونے کے ڈر سے زمین پر نہیں پڑھے گا۔(8) ایک دفعہ آپ کے والد صاحب آپ کو گورداسپور لے گئے اور فرمایا کہ جا کر ڈپٹی ہدایت علی صاحب سے فلاں کتاب لے آؤ۔چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔السلام علیکم کہہ کر کتاب کا نام پشتے پر دیکھ کر اُسے اُٹھا لیا۔باوجود اس بات کے کہ ڈپٹی صاحب حضور کے والد صاحب کے بڑے دوست تھے اور بہت دیندار مشہور تھے مگر سخت لہجے میں کہنے لگے کہ تو بڑا عیارلڑکا ہے۔حضرت صاحب اس واقعہ کو بیان فرما کر فرمایا کرتے تھے کہ امیروں میں دین کم ہوتا ہے اور بعض امیر تو دنیاوی عزت کے حصول کی خاطر ہی دین کا جبہ پہنتے ہیں۔(9) ایک دفعہ حضور نے فرمایا۔آؤ اللہ بخش ہم آپ کو الف لیلہ کی ایک حکایت سناتے ہیں چنانچہ حضور نے فرمایا کہ ایک مرد صالح جو بڑا متقی اور پر ہیز گار تھادینی اور دنیوی علوم کا ماہر تھا۔دولت مند بھی بڑا تھا اُس کے ہمسایہ میں دو میاں بیوی رہتے تھے۔جو بڑے حاسد تھے۔وہ اُن کی حسد کی آگ کو بجھانے کی بہت کوشش کرتا۔کبھی انہیں کچھ دیتا کبھی کچھ۔مگر وہ آگ بجھنے میں نہ آتی تھی۔آخر تنگ آکر اُس نے اپنا شہر چھوڑ دیا اور ایک دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو گیا۔وہاں کے لوگ یہ دعا کیا کرتے کہ اللہ ان میں ایک نیک، بزرگ اور دینی 324