زندہ درخت

by Other Authors

Page 323 of 368

زندہ درخت — Page 323

زنده درخت با نگ کہا کرو۔چونکہ اس کی آواز بہت ہی بلند تھی۔مسلمان تو بہت ہی خوش ہوتے تھے۔مگر غیروں کو تکلیف ہوتی تھی۔وہ دل میں برا مناتے تھے۔ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے۔مرزا جی اس قادر بخش کی آواز بہت دور جاتی ہے۔فرمایا آپ کو اس سے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچتی ؟ کہنے لگے واہ گرو واہ گرو گئو دی سوں تکلیف نہیں اسیں سگوں راجی ہوندے آں۔پر ایس نوں کسی کہو ایڈی اُچی نہ آکھے ذرا نیویں آکھ لیا کرے۔( وا ہے گرو ، وا ہے گرو، گائے کی قسم تکلیف نہیں ہم تو بلکہ خوش ہوتے ہیں پر آپ اس کو کہیں اتنی اونچی نہ دیا کرے ذرا ہلکی آواز میں دیا کرے۔ناقل ) حضور نے فرمایا جب آپ کو تکلیف نہیں دیتی تو اس سے بھی اونچی کہا کرے گا نیویں کی کیا ضرورت ہے۔ایک روز میاں قادر بخش کو فرمایا کہ اب تو تو خوب تندرست ہے۔عرض کی۔حضور دیکھنے میں ایسا نظر آتا ہوں میرے بیچ میں کچھ نہیں۔حضور نے ہنس کر فرمایا ( مجھے مخاطب کر کے ) دیکھو اللہ بخش ! قادر بخش سچ کہتا ہے۔واقعی لہو اور چربی کے سوا اس کے بیچ میں کچھ نہیں۔(4) میں نے ایک روز عرض کیا کہ آپ مثیل مسیح ہیں وہ تو گھاٹ پر جا کر دھوبیوں کو کہتے تھے۔کپڑے کیا دھوتے ہو۔آؤ میں تم کو دل دھو نے سکھاتا ہوں۔میں بہت دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے تو آپ نے دل دھونے نہیں سکھائے۔فرمایا مسیح نے جن کو دل دھونے سکھائے تھے ایک نے ان میں سے تیس روپے لے کر پکڑا دیا ، دوسرے نے منہ پر تھوکا، تیسرے نے لعنت بھیجی پس ایسی باتوں سے بچتے رہنا چاہیے۔اللہ چاہے گا تو خود بخود دل دھو نے سکھا دے گا۔(5) بیت اقصیٰ کا پہلا نام بیت مغلیہ تھا۔بیت مبارک ان دنوں نہیں بنی تھی۔حضور شام کے وقت اپنا کھانا بیت اقصیٰ میں لے جاتے جو تین چار نمازی ہوتے ان میں تقسیم کر دیتے۔وہ نمازی بڑے خوش خوش گھروں کو واپس جاتے اور اوروں کو بھی سناتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض اوقات تیس چالیس نمازی جمع ہو جانے لگے۔جب حضرت صاحب کھانا ملتوی کر دیتے تو پھر نمازیوں کی تعداد کم ہو جاتی۔حضرت صاحب بڑی دعا فرمایا کرتے 323