زندہ درخت — Page 293
زنده درخت ہیں کہ دعا کریں قرضہ بڑھ گیا ہے، خرچ پورے نہیں ہو رہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ قناعت انتہائی ضروری صفت ہے جسے احمدی مردوں اور عورتوں کو اپنانا چاہیے۔میں نے بہت سے ایسے غریب دیکھے ہیں جو قناعت پر قائم رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سفید پوشی کا بھرم رکھتا ہے۔ان کو کبھی کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اگر قرض لیتے ہیں تو اتنا لیتے ہیں جسے واپس کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اموال میں برکت ڈال ڈالتا ہے ان کے لئے غیب سے امداد کے سامان فرماتا ہے۔پس محض یہ کہنا کہ قرض کی ضرورت تھی میں نے نہیں لیا اور خدا تعالیٰ نے میری دعا نہیں سنی یہ کافی نہیں ہے۔دعا کی قبولیت کی کچھ کیفیات ہوتی ہیں ان میں نفس کی پاکیزگی اور خدا پر توکل شامل ہے۔پس یہ خاتون جو واقعہ بیان کر رہی ہیں اس میں یہ حکمت ہے کہ قرض لینے گئیں پھر نفس نے ملامت کی کہ دیکھو تم یہ قرض واپس نہیں کر سکو گی اس وجہ سے واپس آئیں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کیا۔تو کہتی ہیں میں نے پھر تہجد میں دعا کی کہ اے میرے اللہ میں تو بے بس ہوں میں نے صداقت کی خاطر اس قرض سے اجتناب کیا اور اب تیرے سوا میرا کوئی سہارا نہیں ہے۔کہتی ہیں مجھے آواز آئی کہ پیسے آئیں گے۔دوسرے بچوں نے اصرار کیا تو انہوں نے بڑی مزیدار بات کہی انہوں نے کہا رات مجھے اللہ میاں کا فون آگیا ہے کہ پیسے آئیں گے کیونکہ کان میں آواز آئی تھی جیسے فون سے آواز آ رہی ہو۔کہتی ہیں دوسرے دن ایک شخص آپ کے گھر آکر رقم دے گیا کہ کینیڈا سے ایک عورت نے اپنے خاوند کے کاروبار میں برکت کے لئے آپ سے دعا کروائی تھی۔کاروبار بہت اچھا ہو گیا ہے اسی خوشی میں یہ رقم آپ کو بھجوا رہی ہوں۔اب دیکھیں کاروبار میں دعا کب ہوئی کب اس میں برکت پڑی۔کب وہ پیسے وہاں سے چلے ہوں گے کب خدا نے دل میں ڈالا اور ٹائمنگ اس کے وقت کی مطابقت ایسی عظیم الشان ہے کہ ادھر تو کل کر کے وہ قرضے سے اجتناب کرتی ہوئی رات دعائیں کرتی ہیں رات الہاما اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ پیسے آئیں گے اور دوسری صبح وہ پیسے اس طرح ایسے 293