زندہ درخت — Page 279
زنده درخت محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے 14 مارچ کی صبح ساڑھے دس بجے گول بازار ربوہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے۔مرحومہ موصیبہ تھیں اس لئے مقبرہ بہشتی ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔تدفین مکمل ہونے پر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے دعا کرائی۔احباب جماعت دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے اور مرحومہ کے شوہر محترم میاں عبدالرحیم صاحب دیانت درویش کو اور دیگر تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور ان کا خود حافظ و ناصر ہو۔آمین۔امی جان کی یاد جو قیامت مجھ گزری الفضل ربوہ 17 مارچ 1976 صفحہ 6) بتا سکتی ہے کھول کر میں دل کے زخموں کو دکھا لفظ نہیں سکتی نہیں اور احساس میں رشتہ بنا سکتی نہیں بے بسی میں بہتے آنسو بھی چھپا سکتی نہیں یاد جب امی کی آتی ہے تو رو لیتی ہوں میں مغفرت اور اونچے درجوں کی دعا دیتی ہوں میں لہجہ چال دهیمی با نصیحت گفتگو پاک ظاہر پاک باطن پاک دل اور پاک خُو وہ قناعت تھیں سراپا اور حیا کی آبرو ہر طرح سے منفرد تھیں خوب سیرت خوبرو یاد جب امی کی آتی ہے تو رو لیتی ہوں میں ان کے نقش پا پہ چلنے کی دعا کرتی ہوں میں 279