زندہ درخت — Page 273
زنده درخت ہوئی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹا یا چھوٹی بہن نے دروازہ کھول کر مہمانوں کو بٹھایا۔امی جان عبادت سے فارغ ہو کر مہمانوں کے پاس گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ رشتہ کی تلاش میں آئی ہیں اور یہ کہ انہیں کسی مرکزی عہدیدار نے غالباً استانی میمونہ صوفیہ محترمہ نے مشورہ پوچھنے پر بتایا کہ فلاں گھر میں چلی جاؤ، درویش کی بیوی نے بچیوں کو گلے سے لگا کر ان کی کمائی کا لالچ نہیں کیا اور صحیح عمر میں بچیوں کے رشتے کر دیئے ہیں۔امی جان نے سمجھا کہ یہ خدا تعالی کا فضل اور میری دعا کا جواب ہے تاہم آنے والی خاتون کے اصرار پر اگلے روز ان کے ہاں گئیں۔واپس آئیں تو دروازہ میں نے کھولا۔میری طرف دیکھ کر خوش تو وہ طبعی طور پر ہوئیں۔مگر ان کا رد عمل عام خوشی سے کچھ زیادہ تھا میں نے کہا کہ آپ کو میری ربوہ آمد کی خوشی نہیں ہوئی ( ان دنوں خاکسار ملتان میں بطور مربی خدمت بجالا رہا تھا) کہنے لگیں کہ خوشی جیسی خوشی میں ان کے ہاں سے ہو کر آ رہی ہوں۔واپسی پر میں سوچ رہی تھی کہ بچی کے ابا جان قادیان ہیں میں گھر میں اکیلی ہوں اس سلسلہ میں کس سے مشورہ کروں گی اور پھر میں نے آتے آتے دعا کی کہ خدا کرے میرے گھر پہنچنے پر دروازہ میرا بیٹا کھولے اور خدا کی شان ہے کہ دروازہ کسی اور نے نہیں بلکہ تم نے ہی کھولا۔ایک دفعہ ایک چھوٹی بہن امتہ الباری ناصر نے جولاہور میں زیر تعلیم تھیں لکھا کہ ہوٹل میں کھانا تو برابر ملتا ہے مگر کبھی کبھی پڑھتے ہوئے کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے اگر کوئی پنجیری بنا کر بھجوا دیں تو مجھے بڑی سہولت ہو سکتی ہے۔یہاں پنجیری کی عیاشی‘ کا بھی سامان نہیں تھا درویش کی بیوی خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی ابھی عبادت سے فارغ نہیں ہوئی تھیں کہ آواز آئی کہ یہ گھی چھوڑے جا رہی ہوں عبادت کے بعد اسے سنبھال لیں“ سلام پھیر کر دیکھا تو گھی کا بھرا ہوا ایک کٹورا تھا اس سے پنجیری تیار کر کے لاہور بھجوا دی۔بعد میں پتہ چلا کہ ایک پڑوسن کو دیسی گھی کا تحفہ ملا تھا خدا نے اس کے دل میں ڈالا کہ اس میں سے آدھا اپنی درویش بہن کو دے آؤں۔خدائی تائید کے ایسے متعدد واقعات ہمیں بتایا کرتی تھیں مثلاً یہ کہ ایک دفعہ میں اپنے 273